منظور کردہ زرعی بل شیطانی عمل بی جے پی کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی

   

کسانوں کی ناراضگی کے بعد بی جے پی کی اُلٹی گنتی شروع : ٹی سرینواس یادو
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری ٹی سرینواس یادو نے مرکز کی جانب سے منظور کردہ زرعی بل کو شیطانی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سارے ملک میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ ایوان میں عددی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے کسانوں کو کارپوریٹ اداروں کا غلام بنانے کے لیے بلز منظور کرالی ہے ۔ جس کی قیمت بی جے پی کو چکانی پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسانوں سے ٹکرانے والی حکومتوں کا کوئی مستقبل نہیں رہا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے ۔ ماضی میں مخالف کسان کیے گئے فیصلوں پر کئی حکومتیں اقتدار سے محروم ہوئی ہے ۔ اس بل کی منظوری کے بعد بی جے پی کی اُلٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ناراضگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جموں و کشمیر ، چین اور پاکستان کی سرحدوں پر جنگ جیسی صورتحال سے جو فائدہ ہوا ہے ۔ وہی فائدہ اسی کشیدگی سے حاصل ہونے کی بی جے پی توقع کررہی ہے ۔ مگر بہت جلد بی جے پی کا بھرم ٹوٹ جائے گا ۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ جی ایس ٹی پسند نہیں تھی مگر ملک کے مفادات کی خاطر اس کو قبول کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران مرکزی حکومت نے تلنگانہ سے کوئی تعاون نہیں کیا ہے ۔ آئی سی ایم آر کی رہنمایانہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ کورونا اموات کی شرح کو گھٹایا گیا ہے ۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ تلنگانہ ریونیو قانون پر طویل مشاورت ہوئی ہے ۔ کسانوں کو نقصان پہونچانے والے قانون پر راجیہ سبھا میں کوئی مباحث نہیں ہوئی ۔ کورونا بحران کے دوران بی جے پی کے قائدین تلنگانہ حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی سازش رچی تھی ۔ ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری نے کہا کہ 2014 تک کانگریس حکومت نے جے این آر ایم اسکیم کے تحت حیدرآباد کے مواضعات میں 91 کروڑ روپئے کے مصارف سے 45,951 مکانات تعمیر کیے ۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے مواضعات میں تعمیر کیے جانے والے ڈبل بیڈ روم مکانات میں 90 فیصد مکانات حیدرآباد میں رہنے والے عوام کو دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں ۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ راجیہ سبھا کے صدر نشین ایم وینکیا نائیڈو زرعی بل سے ناراض تھے ۔ اس لیے بل کی پیشکشی کے موقع پر وہ کرسی صدارت پر فائز نہیں تھے ۔۔