مناسب جگہ فراہم نہ کرنے کا الزام کانگریس کی چھوٹی سوچ کا عکاس۔ جھوٹ پھیلانے بی جے پی صدر کا الزام
نئی دہلی: بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یادگار کیلئے جگہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اہل خانہ کو بھی آگاہ کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کانگریس پر منموہن سنگھ کی آخری رسومات کے مسئلہ پر سیاست کا الزام لگایا۔نڈا کا ردعمل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس نے مرکزی حکومت پر ملک کے پہلے سکھ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آخری رسومات کیلئے مناسب جگہ نہ دینے کا الزام لگایا ، جہاں ان کی یادگار بعد میں تعمیر کی جا سکتی تھی۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نگمبودھ گھاٹ پر منموہن سنگھ کی آخری رسومات ادا کرکے مدر انڈیا کے عظیم بیٹے اور سکھ برادری کے پہلے وزیر اعظم کی توہین کی ہے۔نڈا نے کانگریس کے اس الزام پر کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ راہول گاندھی اور صدر ملیکارجن کھرگے سابق وزیر اعظم کی موت پر بھی سیاست سے باز نہیں آئے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس کی چھوٹی سوچ کی کتنی ہی مذمت کی گئی ہے، یہ کم ہے۔ کانگریس، جس نے منموہن سنگھ کو زندہ رہتے کبھی حقیقی احترام نہیں دیا، اب ان کے احترام کی بات کر رہی ہے۔نڈا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے منموہن سنگھ کی یادگار کیلئے جگہ مختص کی اور ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا ہے۔انہوں نے الزام کہا کہ اس کے باوجود، کانگریس جھوٹ پھیلا رہی ہے۔نڈا نے کہا کہ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے اور کانگریس قائدین کو سستی سیاست سے باز رہنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے منموہن سنگھ پر سونیا گاندھی کو سوپر وزیر اعظم بنا کر عہدے کو داغدار کیا اور ان کی توہین کی۔ انہوں نے کہاکہ نہ صرف یہ کہ راہول گاندھی نے آرڈیننس پھاڑ کر منموہن سنگھ کی توہین کی مثال قائم کی ۔ بی جے پی صدر نے کہاکہ وہی کانگریس آج منموہن سنگھ کی موت پر سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خاندان اپنے علاوہ کسی کی عزت نہیں کرتا۔ بی جے پی سربراہ نے کہا کہ گاندھی خاندان نے ہمیشہ دیگر رہنماؤں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سونیا گاندھی نے نرسمہا راؤ کی باقیات کو کانگریس دفتر میں رکھنے کی جگہ بھی نہیں دی گئی۔ کانگریس نہیں چاہتی تھی کہ ان کی آخری رسومات دہلی میں ہوں۔ ان کی آخری رسومات حیدرآباد میں ادا کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کی موت کے بعد بھی، کانگریس قائدین ان کی توہین کرتے رہے۔