ٹی آر ایس سے بھی پربھاکر ریڈی کو امیدوار بنانے کا امکان
حیدرآباد۔4۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منوگوڑ انتخابات کے نتائج ریاست میں ’ریڈی ‘ راجیم کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور منوگوڑ نتائج کے بعد واضح ہوجائے گا کہ تلنگانہ میں ریڈی طبقہ کی حکمت عملی کیا ہے اور یہ طبقہ ویلما طبقہ پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتا ہے! ٹی آر ایس سے بھی ریڈی طبقہ کے کے پربھاکر ریڈی کو امیدوار بنانے کے بعد کہا جار ہاہے کہ ٹی آر ایس ‘ بی جے پی اور کانگریس تینوں پر ریڈی طبقہ کا اثر واضح ہے کیونکہ کانگریس رکن اسمبلی کے راجگوپال ریڈی کے استعفی و بی جے پی میں شمولیت کے بعد کانگریس نے منوگوڑسے گوردھن ریڈی کی دختر پلوئی سرونتی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ کہا جار ہا تھا کہ ٹی آر ایس سے بی سی امیدوار کو میدان میں اتار کر دو ریڈی امیدواروں کے درمیان بی سی ووٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی نے پربھاکر ریڈی کو امیدوار بنانے کا قطعی فیصلہ کرلیا ہے ۔ پارٹی سے دو ریڈی امیدواروں کے درمیان بی سی امیدوار کو میدان میں اتارکر کامیابی کی حکمت عملی کو تبدیل کروانے کی طاقت کس میں ہے! بتایاجاتا ہے کہ ریڈی طبقہ نے ٹی آر ایس کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے فیصلہ میں ترمیم کیلئے مجبور کیا ۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ٹی آر ایس کی بی سی امیدوار کو میدان میں اتارنے کے منصوبہ کی تبدیلی اور ریڈی قائد کو امیدوار بنانے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ریڈی طبقہ نے منوگوڑ میں پہلی کامیابی حاصل کر لی لیکن ریڈی طبقہ کے ووٹرس کا موقف کیا ہوگا اور وہ دیگر ووٹرس کو کس قدر متاثر کرپائینگے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔ منوگوڑ کے نتائج کے بعد واضح ہوجائے گا کہ تلنگانہ میں ریڈی طبقہ کس کے ساتھ ہے کیونکہ تینوں امیدواروں کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے تو اب ووٹرس پارٹی دیکھ کر ووٹ کا استعمال کریں گے اور غیرریڈی ووٹرس کو متاثر کرنے مہم چلانے کے ساتھ پارٹی موقف پر بھی دعوے کرسکتے ہیں۔