نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیشنل ہیرالڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کو نوٹس بھیجے ہیں۔ذرائع کے مطابق مرکزی ایجنسی نے کانگریس کے لیڈروں کو یہ نوٹس کچھ دن پہلے جاری کئے تھے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں لیڈروں سے 8 جون کو پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے ۔ دریں اثنا کانگریس نے کہا کہ جانچ ایجنسی نے اس کیس کو سات سال پہلے بند کر دیا تھا لیکن اب اس کا استعمال کانگریس لیڈروں کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سرجے والا اور کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے پہلے برطانوی حکومت نے نیشنل ہیرالڈ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی اور اب مودی حکومت بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی آڑ میں کانگریس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ 2000 کروڑ روپے کی مبینہ طور پر غلط استعمال سے متعلق ہے ۔
بی جے پی کے ہتھکنڈوں سے کانگریس ڈرنے والی نہیں
مودی نیشنل ہیرالڈ کی آڑ میں ہماری آواز کو دبانا چاہتے ہیں ، سونیا اور راہول کو ای ڈی نوٹس پر ردعمل
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ وہ نیشنل ہیرالڈ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے نوٹس بھیج کر کانگریس صدر سونیا گاندھی اور پارٹی لیڈر راہل گاندھی کو ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سمجھنا چاہیے کہ کانگریس ایسے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں ہے ۔ کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا اور سینئر ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے چہارشنبہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انگریزوں نے آزادی سے پہلے نیشنل ہیرالڈ کی آواز کو دبانے کا کام کیا تھا اور آج پھر اسی انگریزی حکومت کی حمایت کرنے والا نظریہ ’تحریک آزادی کی آواز‘ کو دبانے کی سازش کر رہا ہے ۔ اس سازش کے سربراہ خود مودی ہیں اور وہ اس کے لیے ای ڈی کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس نظریے سے بی جے پی آتی ہے ، اس ذہنیت نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور آج بھی وہ ذہنیت غلامی کی علامت ، آزادی کی قربانیوں سے انتقام لے رہی ہے ۔ اس بار اس نے بزدلانہ سازش رچی ہے ۔ نیشنل ہیرالڈ کیس میں اب ای ڈی نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ کانگریس لیڈروں نے کہا کہ برطانوی راج کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کانگریس نے 1937 میں نیشنل ہیرالڈ اخبار شروع کیا تھا، جس کے سرخیل مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، سردارپٹیل، پرشوتم داس ٹنڈن، آچاریہ نریندر دیو، رفیع احمد اور قدوائی لیڈر تھے ۔ انگریزوں کو اس اخبار سے خطرہ تھا، اس لیے انہوں نے ہندوستان چھوڑو تحریک کے دوران نیشنل ہیرالڈ پر پابندی لگا دی اور یہ پابندی 1945 تک جاری رہی۔کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ بی جے پی ملک کو گمراہ کرنے کے لیے کانگریس قیادت کے خلاف ایک گھناؤنی اور بزدلانہ سازش کررہی ہے ، لیکن اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جس آواز کو انگریز دبا نہیں سکے ، اس کو ایسی سازش سے کچلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جو سازش کر رہی ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے کیونکہ کانگریس نے 1937 میں شروع ہونے والے نیشنل ہیرالڈ اخبار کو چلانے والی کمپنی ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کو تقریباً 10 سال تک تقریباً 100 قسطوں میں 90 کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔ اس میں سے 67 کروڑ کی رقم نیشنل ہیرالڈ نے اپنے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال کی اور باقی رقم بجلی کی ادائیگی، کرایہ، عمارت وغیرہ پر خرچ کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ اخبار کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس لیے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کے حصص ینگ انڈیا کو دیے گئے ۔ یہ منافع کمانے والی کمپنی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ینگ انڈیا مینجمنٹ کمیٹی کے ممبران سونیا گاندھی اور راہول گاندھی، موتی لال ووہرا وغیرہ نے کمپنی سے کوئی منافع، ڈیویڈنڈ، تنخواہ یا کوئی مالی فائدہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے دیا گیا قرض نہ جرم ہے اور نہ ہی غیر قانونی۔ اس کی تصدیق الیکشن کمیشن نے بھی 6 نومبر 2012 کو کی تھی۔ کانگریس کی قیادت نڈر، بے خوف اور اٹل ہے ۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ہیں بلکہ مخالفین کا سینہ زوری سے مقابلہ کریں گے ۔ پوری پارٹی اور ہر کارکن پارٹی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے ۔