منی پور تشدد ‘ مقدمات کی سماعت گوہاٹی ہائیکورٹ میں ہی ہوگی

   

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ‘ انٹر نیٹ کے بشمول تمام سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت

نئی دہلی :منی پور میں نسلی تشدد کا آغاز ہوئے چار مہینے ہونے کو ہیں، لیکن اب تک ریاست میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ تشدد کا اثر پوری ریاست میں وسیع پیمانے پر دیکھنے کو ملا اور کچھ مقامات سے اب بھی رہ رہ کر تشدد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ الگ الگ مقامات پر ہوئے تشدد سے جڑی کئی درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھیں جس پر سماعت کو لے کر سپریم کورٹ نے 25 اگست کو ایک اہم حکم جاری کیا۔ تشدد سے جڑے مقدمات کی سماعت گوہاٹی ہائی کورٹ میں کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی بی آئی کی جانچ والے معاملوں کیلئے ایک یا اس سے زیادہ اسپیشل ججوں کی تقرری کرے۔ منی پور کے کئی درخواست گذاروں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ آسام یا میزورم جیسی ریاستوں میں ان مقدمات کی سماعت نہ کی جائے کیونکہ اس سے کئی دقتیں پیدا ہوں گی۔ اسی کے پیش نظر جمعہ کے روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے کئی اہم ہدایات دیں۔ سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے اب ملزمین، گواہوں کی پیشی یا ریمانڈ سے متعلق سرگرمی آن لائن کی جا سکے گی تاکہ ان پر کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی عدالتی حراست منی پور میں ہی دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں سی آر پی سی 164 کے تحت کوئی بھی بیان لوکل مجسٹریٹ کے سامنے درج کرانا ہوگا۔ منی پور کے تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے الگ الگ معاملوں میں آن لائن سماعت کو توجہ دینے کے لیے کہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ متاثرہ فریق نے آسام میں ٹرائل کرانے کی مخالفت کی تھی، جبکہ حکومت کی طرف سے دلیل پیش کی گئی تھی کہ آسام میں بہتر کنکٹیویٹی ہے اس لیے وہاں ٹرائل کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ اب گوہاٹی ہائی کورٹ سے ریاست میں ہی تمام معاملوں کی سماعت کرنے کو کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب کرائی جائے گی تاکہ سماعت میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔