منی پور حکومت نے میانمارمہاجروں کو واپس بھیجنے کی ہدایت

   

امپھال: منی پور حکومت نے آسام رائفلس اور ریاستی مشینری سے بایومیٹرکس لینے اور جولائی کے دوران منی پور میں آئے 718میانمار کے مہاجروںکو واپس بھیجنے کی ہدایات دئے ہیں۔چیف سکریٹری وینیت جوشی نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ ہیڈ کواٹر 28سیکٹر آسام رائفلس نے اطلاع دی کہ 23جولائی کو میانمار کے کھنپاٹ میں جاری تشدد کی وجہ سے 718نئے مہاجرین ہندوستان میریڈین سرحد (آئی ایم بی ) کو پار کرکے چندیل ضلع کے نیو لاجانگ میں داخل ہو گئے ہیں۔چیف سکریٹری نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سرحدی حفاظتی دستہ اور آسام رائفلس کو واضح طور پرمطلع کیا تھا کہ مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ کی ہدایت کے مطابق ، درست ویزا یا سفر ی دستاویزات کے بغیر کسی بھی بنیاد پر منی پور میں میانمار کے شہریوں کے داخلے کو روکنے کے لئے سخت کاروائی کی جائے ۔ جوشی نے کہا کہ موجودہ قانون اور انتظام کے مسائل کو دیکھتے ہوئے ،ریاستی حکومت 718مہاجرین کے حال ہی میں غیر قانونی داخلے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے کیونکہ اس کے بین الاقوامی اثرات ہو سکتے ہیں۔ریاستی حکومت نے آسام رائفلس اتھارٹی سے حقائق اور پابندی کے حالات یا وجوہات کو وضاحت کرنے کے لئے تفصیلی رپورٹ مانگی ہے ۔ جس میں کہا کہ کیو ں اور کیسے ان 718میانمار شہریوں کو مناسب سفری دستاویزات کے بغیر چندیل ضلع میں داخل کرنے کی اجازت دی گئی ۔ساتھ ہی ان 718غیر قانونی میانمار شہریوں کو فورا واپس بھیجنے کی صلاح دی گئی۔چندیل ضلع کے کمشنر اور پولیس سپرٹنڈنٹ کے پاس ایسے تمام لوگوں کے بایومیٹرکس اور تصویریں ہیں۔غور طلب ہے کہ منی پور پولیس نے حال ہی میں ایک مہم کے دوران چوراچاندپور ضلع میں بڑی تعداد میں میانمار کے شہریوں کو پایا اور چورا چاندپور اسپتال میں میانمار کے 10شہری پائے گئے ۔ میانمار کے زیادہ تر شہری چوراچاند پور ضلع میں اس لئے جاتے ہیں ، کیونکہ وہ ایک ہی قبائلی گروپ سے ہیں اور ایک ہی زبان بولتے ہیں۔