تشدد کے بعد فوج کا فلیگ مارچ، 8 اضلاع میں کرفیو، موبائل سروس بند
امپھال/نئی دہلی : منی پور میں تشدد کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جانکاری کے مطابق منی پور حکومت نے جمعرات کو قبائلیوں اور میتیئی طبقہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے انتہائی سنگین معاملوں میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کیا ہے۔ منی پور میں چہارشنبہ کو پیش آئے تشدد کے بعد حالات کو سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔ ہندوستانی فوج اور آسام رائفلز کے جوانوں نے تشدد زدہ علاقوں سے اب تک 9000 سے زائد شہریوں کو ریسکیو کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ اس درمیان کانگریس نے منی پور میں پیدا خراب حالات کے لیے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ منی پور جل رہا ہے۔ بی جے پی نے برادریوں میں شگاف پیدا کیا ہے اور ایک خوبصورت ریاست میں موجود امن کو پوری طرح ختم کر دیا ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ بھاجپا کی نفرت و تقسیم کی سیاست اور اقتدار کا لالچ اس خراب حالت کے لیے ذمہ دار ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں کھڑگے نے عوام سے گزارش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو بحال ہونے کا موقع دیں۔کانگریس جنرل سکریٹری اور سرکردہ لیڈر جئے رام رمیش نے منی پور میں تشدد واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ڈبل انجن حکومت کی یہ حقیقت ہے: ریاست کو آگ لگا دو، مرکز میں خاموش رہو۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ بی جے پی کے ذریعہ حکومت تشکیل کے 15 ماہ سے بھی کم عرصے میں پوری ریاست منی پور میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ریاست بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فوری طور پر پانچ دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، لیکن براڈ بینڈ سروس ورکنگ میںہے۔یہ تشدد ‘آدیواسی ایکتا مارچ’ کے دوران بھڑک اٹھا تھا جس میں طلباء کی ایک تنظیم نے ماتئی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) زمرہ میں شامل کرنے کے مطالبے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین آف منی پور (اے ٹی ایس یو ایم) نے کہا کہ ماتئی برادری کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جس کے خلاف اس نے مارچ کا اعلان کیا ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ریلی میں ہزاروں مشتعل افراد نے حصہ لیا اور توربنگ کے علاقے میں قبائلیوں اور غیر قبائلیوں کے درمیان تشدد ہوا۔
