منی پور میں پھر تشدد کے واقعات، فوج اور آر اے ایف تعینات

,

   

Ferty9 Clinic

شرمناک واقعہ کیخلاف امپھال میں خواتین کا احتجاج، ایک اور ملزم گرفتار

امپھال: منی پور کی وائرل ہونے والی ویڈیو معاملے میں پولیس نے ہفتہ (22 جولائی) کو ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ خواتین کے ساتھ بربریت کے معاملے میں یہ پانچویں گرفتاری ہے۔ اس دوران امپھال سے ایک بار پھر تشدد کی خبریں سامنے آئی ہیں۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امپھال کے گڑھی علاقے میں خواتین مظاہرین نے مرکزی سڑک کو دونوں طرف سے بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر پولیس کو کارروائی سے روک دیا۔ اطلاع ملتے ہی منی پور آرمڈ پولیس، آرمی اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا۔ سڑک پر جلے ہوئے ٹائر وغیرہ کو بھی بجھا دیا گیا۔ مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ کیا۔خیال رہے کہ ملک کے شمال مشرق میں واقع یہ علاقہ گزشتہ 81 دنوں سے نسلی تشدد کی آگ میں جل رہا ہے۔ ریاست میں 3 مئی کو ایک ریلی کے بعد وادی امپھال کی میتئی اور پہاڑی علاقے کی کوکی برادری کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ جس کی وجہ سے اب تک 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہیں، 50 ہزار سے زائد لوگ اپنے گھروں سے بھاگ کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔دریں اثنا، فسادیوں نے دو 4؍مئی کوخواتین کی برہنہ پریڈ کرائی، جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور ملک میں سنسنی پھیل گئی۔ ویڈیو میں مردوں کا ہجوم دو خواتین کو برہنہ کر کے گھماتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو 4 مئی کی تھی لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان نہیں پکڑے گئے۔ اس کے وائرل ہونے کے بعد پولیس نے 20 جولائی کو چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیاجبکہ آج پانچویں ملزم کو گرفتار کرنے کی اطلاع ہے۔اس واقعہ کے خلاف ملک کے دیگر شہروں میں بھی خواتین نے احتجاج کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔