منیٰ اور عرفات میں تلنگانہ کے عازمین حج کو دشواریوں کا سامنا

   

Ferty9 Clinic

معلمین نے کھانا سربراہ نہیں کیا، حجاج کرام کا ویڈیو پیام

حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) جاریہ سال فریضہ حج کے دوران تلنگانہ کے حجاج کرام کو منیٰ اور عرفات میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ حجاج کرام نے تلنگانہ حج کمیٹی کے صدر نشین اور دیگر عہدیداروں کو ویڈیو ریکارڈنگ پر مشتمل پیام روانہ کیا جس میں منیٰ اور عرفات میں درپیش مسائل کا ذکر کیا گیا ۔ پاتی گڈہ سکندرآباد سے تعلق رکھنے والے حاجی صاحب نے شکایت کی کہ معلم کا رویہ حجاج کے ساتھ مناسب نہیں تھا۔ منیٰ میں قیام کے دوران معلم کی جانب سے کھانے کی سربراہی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ایک وقت کا کھانا بھی صحیح انداز میں سربراہ نہیں ہوا۔ ایک دن میں بمشکل ایک وقت کا کھانا دیا گیا جس کے سبب حجاج کو بھوکا رہ کر گزارنا پڑا۔ ایسے حجاج کرام جن کے پاس رقم تھی ، وہ باہر سے خرید کر کھا رہے تھے جبکہ دیگر حجاج قرض لینے پر مجبور تھے ۔ انہوں نے ناقص ٹینٹس کی شکایت کی اور کہا کہ بارش کے ساتھ ہی پانی ٹینٹ میں داخل ہوگیا اور تمام گدے بھیک گئے اور حجاج کرام بالخصوص خواتین کو جاگتے ہوئے رات گزارنی پڑی۔ دیگر حجاج کرام نے بھی کھانے کی عدم سربراہی کی شکایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی کی جانب سے جو ٹوکن سربراہ کئے گئے تھے ، وہ جوں کے توں حالت میں موجود ہیں کیونکہ ایک وقت بھی کھانا سربراہ نہیں کیا گیا ۔ ایک حاجی نے شکایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے دن صبح سے شام تک وہ کھانے کا انتظار کرتے رہے لیکن شام میں حجاج کو دال اور روٹی سربراہ کی گئی۔ منیٰ میں قیام کے دوران ایک وقت بھی ناشتہ نہیں دیا گیا۔ معلم کے انتظامات کی شکایت کرتے ہوئے حجاج کرام نے حج کمیٹی کے عہدیداروں سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت ہند کی توجہ مبذول کرائیں۔ معلمین کے اس رویہ کے درمیان خادم الحجاج بھی بے بس دکھائی دے رہے تھے، وہ حجاج کی مدد کیلئے کچھ نہ کرسکے۔ حیدرآبادی رباط میں قیام کرنے والے حجاج کرام کا کیمپ منیٰ کے آخری حصہ میں قائم کیا گیا تھا جو جمرات سے تقریباً 10 تا 12 کیلو میٹر کے فاصلہ پر تھا ۔ تلنگانہ کے حجاج نے ایام حج کے دوران معلمین کے انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حج کمیٹی کو وقفہ وقفہ سے اس کی اطلاع دی گئی لیکن مسائل کے جوں کے توں برقرار رہے۔