موجودہ حالات میں مسلمانوں کو عزم و حوصلہ سے کام لینے کی ضرورت

   

کُل ہند مجلس تعمیر ملت کی عاملہ کاافتتاحی اجلاس، صدر تنظیم جناب محمد ضیاء الدین نیر کا خطاب

حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( پریس نوٹ ) کُل ہند مجلس تعمیر ملت کی مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس گلشن خلیل مانصاحب ٹینک میں منعقد ہوا جس میں موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے طئے کیا گیا کہ مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے دیگر ہم خیال تنظیموں اور اداروں کو ساتھ لے کر منصوبہ بند جدوجہد کی جائے۔ صدر تنظیم جناب محمد ضیاء الدین نیر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ جن عجیب و غریب حالات سے دنیا دوچار ہے ان میں مسلمانوں کی مشکلات اور مسائل اور بڑھ گئے ہیں۔ ان حالات کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے ملک و قوم کو درپیش حالات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ دستور ہند میں مساوات اور حقوق کی بات درج ہے، لیکن عملی طور پر ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو جان بوجھ کر تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر نظرانداز کئے جانے کے نتیجہ میں مسلمان ہر میدان میں پسماندہ ہوگئے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ مختلف حکومتوں کا مسلسل اور متواتر طرز حکمرانی رہا ہے۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے تعلق سے بارہا آواز اٹھائی جارہی ہے۔ اوقافی جائیدادوں پر قبضے کئے جارہے ہیں۔ اردو زبان و تہذیب کو ختم کرنے کی ناپاک کوششیں ہورہی ہیں۔ اخبارات، ٹی وی اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ منفی پروپگنڈا پھیلایا جارہا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کو طرح طرح سے اور مختلف طریقوں سے مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بات ملک کے حق میں اچھی نہیں ہے۔ اشتعال انگیز تقریریں اور بیانات روز مرہ کی باتیں ہوگئی ہیں جن کو میڈیا خصوصاً سوشیل میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جارہا ہے۔ مسلمانوں پر فرقہ پرست، دیش دروہی ، قوم دشمن اور دہشت گرد یا آتنک وادی ہونے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ملک کی فضاء مسموم یعنی زہر آلود ہوچکی ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک کے مختلف علاقوں میں بھیانک فسادات ہوئے، ان میں الٹا مظلوم مسلمانوں کو ہی قانونی شکنجہ میں کستے ہوئے ان پر جھوٹے مقدمات دائر کئے جاتے رہے۔ صدر تعمیر ملت نے کہا کہ آزادی کے بعد سے کانگریس پارٹی مسلمانوں کے ساتھ منافقانہ پالیسی پر عمل پیرا رہی اور انہیں طفل تسلیاں دے کر محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ زعفرانی پارٹی ہندوتوا کا ایجنڈہ لے کر سیکولرازم کے خلاف ڈنکے کی چوٹ پر کام کرتی ہے۔ اچھے دنوں کا خواب دکھاکر ملک کے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی ، بابری مسجد کی شہادت، شہادت کے مجرمین کو بری کردینے، حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخیاں، مسلم پرسنل میں مداخلت، اذان پر پابندیاں، گاؤ کشی پر امتناع، مدرسوں پر تحدیدات، وندے ماترم اور یوگا کولازمی قرار دینے جیسے اقدامات کے علاوہ تاریخ کو مسخ کرنے اور تبدیل کردینے ، سوریہ نمسکار، گیتا پاٹھ، سرسوتی وندنا کے لزوم جیسے کام زور و شور سے جاری ہیں۔ مسلم بادشاہوں کے خلاف غلط باتیں عام کی جارہی ہیں اور ان کے دور کی تاریخی یادگاروں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے (جناب ضیاء الدین نیر نے کہاکہ بہر حال قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو حالات ہیں ان میں ہم کو حکمت ، حوصلہ مندی اور صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارا قومی و ملی مسئلہ یہ ہے کہ ہم وقتی طور پر کسی مسئلہ کو لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم فوری فائدے اور فوری نتیجہ کا سوچتے ہیں۔ لانگ ٹرم پلان کے ساتھ مستقل مزاجی سے کام کرنے کے عادی نہیں ہیں ) ضرورت ہے کہ ہم سب سے پہلے صحیح معنوں میں مسلمان بنیں، اپنے اخلاق و کردار میں، اپنے معاملات میں ، اپنے لین دین میں، ان اصولوں کے پابند بنیں جن پر ہمارا ایمان ہے۔ آج ہماری زندگیوں میں دو رنگی اور منافقت بڑھ گئی ہے۔ اگر مسلمان اسلامی کردار کو اپناتے تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ اخبارات اٹھا کر دیکھئے ہر روز مسلمان جرائم میں ماخوذ کئے جاتے ہیں، جھوٹ، فریب، دھوکہ، ملاوٹ، غاصبانہ قبضہ، شراب نوشی، جوا، اغوا، بدکاری، چوری، ڈاکہ، قتل، غنڈہ گردی وغیرہ کونسا ایسا برا کام ہے جس میں ہمارا نام درج نہیں ہے۔ اس بات پر ہر مسلمان کو خصوصاً دینی و ملی خدمات اور سماجی اصلاح سے جڑے افراد و تنظیموں کو نہ صرف سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کا حل تلاش کرنے اور اس پر عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ مسلمانوںمیں دینی تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محض مسلم گھرانے میں پیدا ہوجانے سے اسلامی کردار خود بخود وراثت میں نہیں آجاتا۔ اجلاس کا آغاز قاری محمد سلیمان کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ جناب محمد علی سلیم، جناب سید باقر حسین نے ہدیہ نعت اور جناب محمد عبدالرافع نے کلام اقبال پیش کیا۔ ابتداء میں معتمد عمومی جناب محمد عمر شفیق نے خیرمقدم کرتے ہوئے تنظیموں کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ ڈاکٹر محمد مشتاق علی نائب صدر تنظیم، جناب محمد عبدالمعید حشر ( اورنگ آباد ) ، جناب محمد وہاج الدین صدیقی، جناب سید ایوب حسینی ، جناب سیف الرحیم قریشی، جناب نذیر احمد ایڈوکیٹ، امباجوگائی، جناب اسد قادری، جناب محمد عظیم قریشی، جناب عبدالرحیم قریشی، جناب سید شہباز الحسینی ( گلبرگ) جناب ذکریا مدنی ( بیڑ مہاراشٹرا ) جناب مجاہد سکندر اور دوسروں نے مباحث میں حصہ لیا اور اپنے اپنے علاقوں کی رپورٹ پیش کی۔