مودی اور امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کے سی آر کا ’ یو ٹرن ‘

   

کسانوں کے مفادات نظرانداز، صدرنشین میناریٹی ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کا بیان
حیدرآباد۔ تلنگانہ پردیش کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے کسانوں کے مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسانوں کے مفادات کے مسئلہ پر ریاستی حکومت دوہرا معیار اختیار کررہی ہے۔ ایک طرف ٹی آر ایس حکومت کسانوں کی تائید اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے تو دوسری طرف مرکزی قوانین کو تلنگانہ میں نافذ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ’ بھارت بند‘ کی ٹی آر ایس نے تائید کی تھی لیکن نئی دہلی میں نریندر مودی اور امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کے سی آر نے یو ٹرن لے لیا ہے۔ مرکزی قوانین سے ملک بھر کے کسانوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ حکومت زرعی پیداوار کی خرید و فروخت کیلئے موجود مارکٹس کو بند کرتے ہوئے امبانی اور اڈانی کو کسانوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے فیصلے نہ صرف کسانوں کیلئے بلکہ عام آدمی اور متوسط طبقات کیلئے مضرت رساں ہیں۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی کے قائدین کو کے سی آر اور کے ٹی آر سے سوال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسئلہ پر ڈرامہ بازی بند کرنے کیلئے ٹی آر ایس قائدین دباؤ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام قائدین جو کے سی آر خاندان سے ریاست کو نجات دلانا چاہتے ہیں وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی قوانین سے دستبرداری تک کسانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوپائے گا۔