مودی حکومت ،کسانوں سے احتجاج کا حق نہیں چھین سکتی: پاپولر فرنٹ

   

نئی دہلی : پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے مرکزی حکومت کے ذریعہ کسانوں کے پُرامن مظاہروں کو ختم کرانے کے لئے طاقت کے استعمال اور غیرجمہوری رویّہ اپنانے پر مرکز کی مذمت کی ہے۔ ملک کے ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے اور عوام مخالف قوانین کے خلاف سڑکوں پر اترنے کا حق ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی کسانوں کے احتجاج کرنے کے حق کو واضح کیا ہے۔ پولیس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کو تحفظ فراہم کرے۔ او ایم اے سلام نے کسانوں پر دائیں بازو کے غنڈوں کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔سنگھ پریوار کسانوں کو مظاہروں کی جگہ سے ہٹا کر احتجاج کو ختم کرنے کے لئے تشدد پیدا کر رہا ہے۔حکمراں جماعت کے حلقوں اور ان کی میڈیا کے ذریعہ سنگھ پریوار کے حملوں کو مقامی لوگوں کا فطری ردّعمل بتا کر اسے درست ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہئے۔کسانوں کو دھمکانے اور ان کے پُرامن و جمہوری احتجاج کو زبردستی ختم کرانے کی مرکزی و اترپردیش حکومتوں کی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ درحقیقت اس کا ان کی توقع کے بالکل برعکس نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔ یہ مظاہرے مغربی یوپی کے مختلف علاقوں میں پھیلتے نظر آ رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس مظاہرے میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔اب، کسانوں کو اُن کے پُرامن دھرنوں سے اٹھانے کی لاچار کوشش میں، پولیس سنگھ پریوار سے وابستہ شرپسندوں کو مظاہرے کی جگہوں پر جاکر افراتفری کے حالات پیدا کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔یاد رہے کہ ٹھیک یہی حربہ دہلی اور اترپردیش میں شہریت احتجاجات کو ختم کرانے کے لئے اپنایا گیا تھا۔ سنگھو، سکری اور غازی پور بارڈر میں احتجاج کے مقامات پر خود کو مقامی بتانے والے غنڈوں کے ذریعہ کسانوں کے خلاف غیرضروری اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے، جو کہ آر ایس ایس-بی جے پی کا اپنی حکومت کو بچانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ جب آر ایس ایس کے غنڈے کسانوں کو مار رہے تھے، تو پولیس اور آر اے ایف کے جوان خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔