راج ٹِک
کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان کی زندگی کیلئے آکسیجن کس قدر ضروری ہوتی ہے ۔ اگر نہیں جانتے ہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کوئی بھی انسان آکسیجن کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ آکسیجن نہ ملنے کی صورت میں انسان کا دماغ صرف 3 تا 5 منٹ میں کام کرنا بند کردیتا ہے کیونکہ آکسیجن Cellular Energy کیلئے بہت اہم ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر ہمارے جسم میں جو خلیئے ہوتے ہیں وہ انرجی پیدا کرنے کیلئے آکسیجن کا استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جسم کے تمام اعضاء بالخصوص دماغ کام کرتا ہے ۔
اب آپ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ آکسیجن انسانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ چرند پرند اور شجر کی بقاء کیلئے بھی بہت ضروری ہوتی ہے اور جہاں تک آکسیجن کا سوال ہے سمندر ، دریا و نحر آکسیجن کی پیداوار کا بہت بڑا ذریعہ ہے جبکہ آکسیجن پیدا کرنے میں جنگلات اور جنگلاتی علاقوں بالخصوص پہاڑی سلسلوں یا بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں پائے جانے والے جنگلات کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ہم ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو ہندوستان کے علاقہ میں 24.62 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے یعنی 24.62 فیصد ہندوستان پوری طرح سرسبز و شاداب ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا جنگلاتی علاقہ مدھیہ پردیش اور میزورام میں ہے ۔ اگر ہم آکسیجن کی پیداوار کی بات کرتے ہیں اس کیلئے یہ بتانا بھی ضروری ہیکہ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں۔ جنگلات حقیقت میں ا س کرہ ارض کے سبز پھیپھڑے ہیں جو ماحولیات کو باقاعدہ اور صاف ستھرا رکھنے میں اہم رول نبھاتے ہیں ۔ یہ آلودگی پھیلانے والے اجزاء اور ذرات وغیرہ کو جذب کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ Ocean کی طرح جنگلات بھی آکسیجن کی فیکٹری ہے ۔ اس لئے جنگلات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔
جنگلات کی انسانی زندگی میں اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان میں زمین پر پائے جانے والے 80 فیصد جانور بستے ہیں ، اس قدر کثیرتعداد میں جانوروں کی موجودگی زمین پر زندگی کو اہم بناتی ہے ۔ اور وہ بھی Polysynthesis کے ذریعہ ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان میں جنگلات 8 ارب ٹن آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ اروناچل پردیش ، مدھیہ پردیش اور جموں و کشمیر کا اس میں نمایاں حصہ ہے۔ جنگلات ہوا صاف کرتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ آپ کی جانکاری کیلئے یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں انڈسٹریل اور میڈیکل آکسیجن 15 ہزار سے لیکر 80 ہزار روپئے فی ٹن فروخت کی جاتی ہے جبکہ 30 لیٹر آکسیجن سلنڈر کی قیمت 7500 روپئے تک بتائی گئی ہے۔
قدرت کے اس قدر رحم و کرم کے باوجود انسان انتہائی ناشکرا ہے ۔ بہرحال جب آکسیجن کی بات نکل پڑی ہے تو آج کل ہندوستان و ہندوستان کے جنگلات اور اس کی سرسبز و شادابی سے محبت کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی کو فضول میں گالیاں دے رہے ہیں ۔ اگر اُن کی حکومت اپنے دوستوں کو دولت مند بنانے کیلئے جنگلات کاٹنے لگے یاجنگلات کا کٹاؤ شروع کردے تو اس میں کیا برائی ہے ؟
کیا مودی جی اپنے دوستوں کو دولتمند بنانے کیلئے ہندوستان کو آکسیجن فراہم کرنے والے جنگلات نہیں کاٹ سکتے؟ ارے بھائی ! سپریم کورٹ نے بھی اس کی اجازت دے دی ہے۔ فی الوقت ساراسوشل میڈیا ایک اسکام پر بات کررہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مودی حکومت ملک کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلہ Aravali Hills کو جنگلات سے پاک کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور یہ سب کچھ قدرتی وسائل جیسے تانبہ ، پیتل ، زنگ اور ماربل کی کانکنی کیلئے کیا جارہاہے ۔ آپ کو بتادیں کہ آراولی ہلز ایک 900 کلومیٹر طویل جنگل ہے جو دہلی سے شروع ہوکر پھر راجستھان اور ہریانہ سے ہوتے ہوئے گجرات میں جاکر ختم ہوجاتا ہے ۔ اس پورے پہاڑی علاقہ میں ایک ہزار سے زائد اقسام کے جانوروں کا بسیرا ہے اور اسے قدرتی ڈھال یا Natural Shield بھی کہا جاتاہے کیونکہ یہ تھار صحرا کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے اور سارے ملک کو آکسیجن فراہم کرتی ہے خاص کر دہلی NCR کا 30 فیصد پینے کا پانی آراولی ہلز کے جنگلات سے جاتا ہے لیکن افسوس صد افسوس کے اس غیرمعمولی جنگل کو کاٹنے کیلئے ہماری حکومت اس قدر پرجوش ہے کہ اُنھوں نے پہاڑوں اور پہاڑی سلسلوں کے اُصول و قواعد ہی بدل دیئے ہیں۔ اب مودی جی کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر صرف زمین سے 100 میٹر بلندی پر موجود پہاڑوں کو ہی Valid مانا جائے گا اور مابقی پہاڑی سلسلہ پر موجود جنگلات کو کانکنی کیلئے کاٹ دیا جائے گا ، اُنھیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا ۔ یہ جان کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے کہ اروالی ہلز کا صرف 8 فیصد حصہ 100 میٹر سے اوپر ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ 92 فیصد جنگل کاٹ دیا جائے گا۔ اگر دیکھا جائے تو حکومت کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہی ہے وہ صرف اور صرف Minining Companies اور بلڈرس کو دولت مند بنانے کیلئے آکسیجن کے ایک بہت بڑے ذریعہ کو حکومت ختم کررہی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہاکہ یاد رکھئے ! اگر آج آپ چپ رہتے ہیںتو آج تو جنگل ہے وہ کل سارا دیش بیچ کھائیں گے ۔
انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دل دہلادینے والے انکشافات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ سپریم کورٹ نے مرکزی وزارت ماحولیات کے ایک پیانل کی ان سفارشات کو قبول کرلیا جس میں اراولی ہلز میں جنگلات کے کٹاؤ اور وہاں کانکنی کا مطلب اور defination ہی تبدیل کردیا گیا ۔ اب صرف 100 میٹر سے اوپر کے جنگلات کو نہیں کاٹا جائے گا حالانکہ فارسٹ سروے آف انڈیا FSI نے اسے خطرناک قرار دیا ہے اور 98 فیصد جنگلاتی حصہ کو مائننگ ، رئیل اسٹیٹ کیلئے کھول دیاجائے گا ۔ ویسے بھی دہلی NCR ریجن پہلے ہی فضائی آلودگی سے متاثر ہے ۔ دہلی کو تو دنیا کا بدترین آلودہ شہر تک قرار دیا گیا ہے ۔ جہاں تک آرواالی ہلز کا سوال ہے یہ ایک سنسکرت لفظ Ara سے اخذ کیا گیاہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 ویں صدی میں وہاں کاپر اور دوسرے معدنیات کی کانکنی کی جاتی رہی ہے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہیکہ یہ اراولی پہاڑی سلسلہ 2.5 ارب سال پہلے وجود میں آیاہے ۔ بہرحال سپریم کورٹ نے جس طرح مرکزی وزارت ماحولیات کے پیانل کی سفارشات قبول کی ہیں اس سے اراولی ہلز کی بقاء خطرہ میں پڑ گئی ہے اور یہ عوام کیلئے فکر و تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
