مودی حکومت دنیا کے سامنے نئے ہندوستان کو پیش کرنے میں کامیاب

,

   

ملک سے ذات پات کے نظام اور خوشامد پسندانہ سیاست کا خاتمہ ۔ بی جے پی قومی عاملہ اجلاس میں جے پی نڈا کا خطاب۔ سیاسی و معاشی قرار داد کی منظوری

حیدرآباد ۔ 2 جولائی (سیاست نیوز) بی جے پی قومی عاملہ کے اجلاس میں پہلے دن معاشی اور سیاسی دو قرار دادیں منظور کی گئی۔ شہر حیدرآباد کے ایچ آئی سی میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک سے ذات پات، خاندان اور خوشآمد پسند سیاسی دور کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اب ہندوستان ساری دنیا میں ترقی کا مرکز بن گیا ہے۔ ملک کی جمہوریت میں کارکردگی اور ترقی کی پہلوؤں کو ہی سیاسی اصولوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت دنیا کے سامنے ایک نئے ہندوستان کو پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ قومی اجلاس میں سیاسی قرارداد کو منظوری دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس قرارداد کو پیش کیا۔ گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک کے علاوہ دیگر ریاستوں کے مجوزہ انتخابات کی حکمت عملی پر غور و خوض کیا گیا۔ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے معاشی قرارداد پیش کی جس کی راجیہ سبھا میں بی جے پی کے قائد پیوش گوئل اور ہریانہ کے چیف منسٹر منوہر لال کھٹر نے تائید کی۔ ملک کے معاشی نظام کو مستحکم کرنے غربت کا خاتمہ کرنے، غریب عوام کی فلاح و بہبود پر تیار کردہ تجاویز کو منظوری دی گئی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ قومی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی 8 سالہ کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے بی جے پی قائدین نے کہا کہ 8 سالہ کارکردگی سے آئندہ 20 سال تک ملک میں بی جے پی حکومت قائم رہنے کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نے چیف منسٹر کے سی آر کو کھوٹا سکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام کے دور حکومت میں جس طرح خواتین اور لڑکیاں محفوظ نہیں تھیں وہی دور ٹی آر ایس کی حکومت میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حیدرآباد کو منشیات کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین کی ظلم و زیادتی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں ملک سے بدعنوانیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ غیر بی جے پی حکومتوں بالخصوص تلنگانہ میں بدعنوانیاں عروج پر ہے۔ جب تک خاندانی راج کا خاتمہ نہیں ہوتا کوئی ریاست ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں مغربی بنگال، کیرالا، اور کشمیر میں بی جے پی کارکنوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی قومی عاملہ متذکرہ ریاستوں کے بی جے پی قائدین کو تیقن دیتی ہے۔ تھوڑا صبر کرلیں اُن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو گی۔ سماجی ترقی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی اسکیمات کو متعارف کرایا ہے۔ جس سے ملک کے عوام مطمئن ہیں۔ اپوزیشن کی گمراہ کن مہم کے باوجود ملک میں جہاں بھی انتخابات ہو رہے ہیں بی جے پی کامیاب ہورہی ہے۔ پارٹی ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ بی جے پی قومی عاملہ کے اجلاس میں حیدرآباد ڈکلیریشن کے نام سے بی جے پی سیاسی قرارداد منظور کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں کی صورتحال اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو برسر اقتدار لانے بی جے پی خصوصی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ خاندانی حکمرانی کا خاتمہ کرنے سارے ملک کو حیدرآباد کی سرزمین سے پیغام دینے کی تیاری کرنے کا پتہ چلا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی سیاسی طاقت کا اندازہ لگانے ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں مرکزی وزرا، سابق چیف منسٹرس اور دوسرے قائدین کو انچارج بناکر روانہ کیا گیا تھا۔ یہ تمام قائدین اسمبلی حلقوں کی گراؤنڈ رپورٹ قومی قیادت کو پیش کریں گے جس کا جائزہ لینے کے بعد خصوصی منصوبہ تیار کی جائے گی۔ اتوار کو صبح 10 بجے قومی عاملہ کے دوسرے دن کے اجلاس کا آغاز ہوگا جو دوپہر 3 بجے تک جاری رہے گا۔ شام میں پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد پر جلسہ عام کا انعقاد ہوگا جس سے وزیر اعظم نریندر مودی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ دوسرے قائدین خطاب کریں گے۔ جلسہ عام کو کامیاب بنانے بی جے پی کی جانب سے تیاریاں کی گئی ہیں۔ن