مودی حکومت ملک میں ایمرجنسی جیسے حالات پیدا کر رہی ہے : کے سی آر

   

عوامی منتخبہ حکومتوںکو کام کاج سے روکنے کی مذمت۔ سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف آرڈیننس سے دستبرداری کا مطالبہ

حیدرآباد۔27۔ مئی ۔(سیاست نیوز) مرکز نے دہلی حکومت پر لیفٹنٹ گورنر کے اختیارات کے سلسلہ میں آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ جمہوریت پر سوال کھڑے کئے ہیں اور اگر اس آرڈیننس کو واپس نہیں لیا جاتا ہے تو متحدہ جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی اس جدوجہد کو ملک کے جمہوری نظام کی مکمل تائید حاصل ہوگی۔نریندر مودی حکومت دہلی میں اختیارات کو لیفٹنٹ گورنر کے حوالہ کرنے جاری کردہ آرڈیننس سے دستبرداری اختیار کرے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور چیف منسٹر پنجاب بھگونت مان سنگھ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب میں یہ مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک میںایمرجنسی کی طرح کے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں اور دستوری اداروں کو منظم انداز میں حکومت اپنے کنٹرول میں لینے کے اقدامات کررہی ہے ۔ چندرشیکھر نے کہا کہ مودی ایمرجنسی کے حالات کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی سے قبل جو حالات تھے وہی حالات بی جے پی پیدا کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایمرجنسی سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کو ٹالنے دستوری ترمیم کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور آج سپریم کورٹ نے جو احکام جاری کئے ہیں ان پر عمل کے بجائے مرکزی حکومت آرڈیننس کے ذریعہ ان احکامات کو کالعدم قرار دے رہی ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا یہی اچھے دن ہیں ! انہوں نے موجودہ حالات کو ایمرجنسی سے زیادہ ابتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت عوامی منتخبہ دہلی حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے کہاکہ کرناٹک میں عوام نے جس طرح بی جے پی کو سبق سکھایا ہے اسی طرح دیگر ریاستوں اور آئندہ عام انتخابات میں بھی سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو ’معافی کا سوداگر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح حصول اراضیات اور زرعی قوانین کو واپس لیا گیا ہے اسی طرح اس آرڈیننس کو بھی واپس لیا جائے اور دہلی کے عوام سے معافی مانگ لیں۔کے سی آر نے کہا کہ وہ سیاست میں ایک ساتھی کی حیثیت سے مودی کو مشورہ دے رہے ہیں وہ آرڈیننس سے دستبرداری اختیار کریں کیونکہ یہ ملک ‘ دستور اور عوام کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے جاری کردہ آرڈیننس ملک کی جمہوری نظام اور دستور کیلئے چیالنج ہے اور اس کو ہندستان جیسے عظیم ملک میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ بھارت راشٹر سمیتی دہلی کے عوام کو انصاف دلوانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے علاوہ جمہوری اصولوں کی بقاء کیلئے ایوان میں اورایوان کے باہر اروند کجریوال حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔کے سی آر نے کہا کہ دہلی میں عوامی منتخبہ حکومت کو اپنے طور پردستور کے دائرہ میں خدمات کی انجام دہی سے کوئی روک نہیں سکتا اور اسے روکنا غیر دستوری ہے اسی لئے انہیں یقین ہے کہ اس آرڈیننس کی پارلیمنٹ میں ناکامی کو یقینی بنانے تمام اپوزیشن جماعتیں ریاستوں کے اختیارات کا تحفظ کریں گی۔کے سی آر استفسار کیا کہ آیا تمام اختیارات عہدیداروں کے تبادلہ ‘ بجٹ کی منظوری اور دیگر امور لیفٹننٹ گورنر کے حوالہ کئے جاتے ہیں تو عوامی منتخبہ حکومت کو کیا اختیار حاصل رہے گا!