مودی حکومت نے ہندوستان کی ساکھ بگاڑ دی ،سرمایہ کار خوفزدہ ہوگئے

,

   

حکومت نے سالانہ 2کروڑ نئے جابس کا وعدہ کیا تھا مگر گذشتہ سال ایک کروڑ نوکریاں ختم ہوگئیں، یوتھ ریالی سے راہول گاندھی کا خطاب

جئے پور ۔ 27جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر ہندوستان کے امیج کو تباہ کردینے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو امن و ہم آہنگی کے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن مودی حکومت نے یہ ساکھ بگاڑ دی ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنی آواز کو دبنے نہ دیں ۔ یہاں یوتھ ریالی سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کانگریس نے مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ملک کا ایسا امیج بنادیا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو خوف ہونے لگا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال ایک کروڑ لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہوگئے جب کہ مودی حکومت نے اُن کیلئے دو کروڑ نئے جابس تشکیل دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ راہول نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ کوئی دباؤ میں نہ آئیں اور اپنی آواز برابر اٹھاتے رہیں اور روزگار کے علاوہ ملک کے مستقبل کے بارے میں سوالات کرتے رہیں ۔ جئے پور کے ایک جلسہ عام کو ’’ یووا آکروش ریالی ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں بیروزگاری کے تعلق سے نوجوانوں کی برہمی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ راہول نے کہا کہ انڈیا امن و ہم آہنگی کے ملک کے طور پر معروف ہے اور اُسے اکثر پاکستان کے برعکس قرار دیا جاتا ہے لیکن اب یہ ساکھ مسخ کردی گئی ہے ۔ مودی نے نہ صرف ہندوستان کی امیج اور ساکھ کو دنیا بھر میں نقصان پہنچایا ہے بلکہ اب ہندوستان ریپ کیپٹل سمجھا جانے لگا ہے لیکن مودی اس تعلق سے کبھی بات نہیں کرتے ۔ جئے پور کے رام نواس گارڈن میں منعقدہ ریالی میں راہول نے کہا کہ جب نوجوان بیروزگاری کے بارے میں سوالات کرتے ہیں اور مودی حکومت کی جانب سے ہندوستان کی امیج کو تباہ کرنے پر سوال اٹھاتے ہیں تو آپ کو گولیوں کے ذریعہ جواب دیا جاتا ہے اور آپ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا سب سے بڑا ثاثہ اور طاقت نوجوان ہیں جو چین کے ساتھ مسابقت کی قابلیت رکھتے ہیں لیکن حکومت اس اثاثہ کو ضائع کررہی ہے ۔ قبل ازیں چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ ، ڈپٹی چیف منسٹر اور صدر پردیش کانگریس سچن پائیلٹ نے جئے پور ایئرپورٹ پر راہول گاندھی کا استقبال کیا ۔ ریالی سے خطاب کرنے سے قبل راہول نے بعض ریاستی وزراء سے ملاقات بھی کی ۔ راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نافذ کرکے ملک کو بہت نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک میں حکومت تشدد پھیلا رہی ہے جس سے غیر ملکی سرمایہ بھی آنا بند ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ملک یہ مانتے ہیں کہ چین کا مقابلہ ہندوستان کے نوجوان کرسکتے ہیں۔ یہ ملک ہندوستان میں پیسہ لگانے کے لئے تیار تھے لیکن اب بدامنی کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے سے کترا رہے ہیں۔راہول گاندھی نے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے ملک کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سے تاجر برباد ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ مسٹر مودی کو جی ایس ٹی کی سمجھ ہی نہیں ہے ۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے وقت مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نو فیصد تھی لیکن آج نئے پیمانوں کے مطابق بھی پانچ فیصد ہی ہے ۔