زعفرانی پارٹی کی حکومت خود اپنے ہی عوام کیخلاف جنگ میں مصروف ،مائیگرینٹ لیبرس اور کسانوں کے مسائل پر بے حسی :سرجیوالا
نئی دہلی۔ 30 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے مودی حکومت کی دوسری میعاد کے پہلے سال کو ’’مایوسی، تباہ کن بدانتظامی اور دردناک شیطانی کارستانی‘‘ قرار دیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینو گوپال نے کہا کہ مودی حکمرانی کے 6 سال بقائے باہم و بھائی چارہ کے رشتے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور فرقہ وارانہ مسلکی و ذات پات پر مبنی تشدد میں کانگریس کے اعلیٰ ترجمان رندیپ سرجے والا نے مودی حکومت کے 6 سال کی تکمیل پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی حکومت خود اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور زخموں کو مندمل کرنے کے بجائے انہیں پے در پے ضربات پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ دراصل مادر ہند کو ضربات پہنچانے کے مترادف ہے‘‘۔ رندیپ سرجے والا نے مزید کہا کہ ’’حکومت چند منتخب دولت مندوں کے خزانے بھرنے کی کوشش کررہی ہے اور غریبوں کا استحصال کرتے ہوئے انہیں اذیت پہنچا رہی ہے۔ کانگریس نے حکومت کے بارے میں ’چھ مفروضات‘ کی ایک فہرست جاری کرتے ہوئے مختلف محاذوں پر اس کی ناکامیوں کو اجاگر کیا ہے اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی حکمرانی میں جمہوریت خطرے میں ہے، پارلیمانی وقار پامال کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے دونوں قائدین نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ملک کے عوام جب خود کو مجبور و بے بس محسوس کررہے ہیں، حکومت بے دلی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ کووِڈ۔19 بحران پر سیاسی کھلواڑ کرنے کانگریس کے خلاف بی جے پی کے الزامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وینو گوپال نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کبھی کوئی سیاست میں ملوث نہیں ہوئی ہے بلکہ چند مشورے دیتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’بحیثیت ذمہ دار اپوزیشن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عام آدمی کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے ہر قسم کی سیاست سے بالاتر ہوکر کام کریں اور ہم ایسا کرتے ہوئے صرف حکومت کی ناکامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ وینو گوپال نے کہا کہ کسانوں اور مائیگرینٹ لیبر کی بدحالی پر حکومت ’’مکمل طور پر بے حس ہوگئی ہے اور کانگریس صرف ان مسائل کو حل کرنے میں حکومت کی ناکامیوں کے علاوہ عام آدمی کی بدحالی اور دیگر مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ سرجے والا نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اہم مسائل پر غور و بحث کے لئے فی الفور ایک پارلیمانی اجلاس طلب کیا جائے اور مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس طلب کرتے ہوئے ضابطہ کے مطابق کارروائی شروع کی جائے۔ سرجے والا نے مزید کہا کہ ’پردھان سیوکوں کا مطلق العنان بن جانا جمہوریت پر پہلی چوٹ ہوتا ہے۔ درحقیقت مودی حکومت اگرچہ جمہوری عمل کے ذریعہ منتخب تو ضرور ہوئی ہے لیکن مودی حکمرانی میں جمہوریت حملے کا نشانہ بنا دی گئی ہے۔