مودی حکومت کو پہلا جھٹکا، ہرسمرت کور مستعفی

,

   

شرومنی اکالی دَل لیڈر مخالف کسان آرڈیننس سے ناراض ۔ ’’استعفیٰ محض دِکھاوا ‘‘: کانگریس

نئی دہلی : مرکز کی مودی حکومت کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب شرومنی اکالی دل لیڈر اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور نے استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے استعفیٰ کا اعلان ٹوئٹر کے ذریعہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کسان مخالف آرڈیننس کے خلاف احتجاجاً اپنا استعفیٰ دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انھیں کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر ہے اور وہ انہی کی بیٹی اور بہن ہیں۔فوڈ پروسیسنگ صنعت کی مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ “میں نے کسان مخالف آرڈیننس اور قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے‘‘۔ زراعت سے متعلق بل پر بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے میں ٹوٹ پھوٹ کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔استعفیٰ نامہ ہرسمرت کور نے وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا ہے ۔قبل ازیں بی جے پی کو وارننگ دیتے ہوئے سکبھیر سنگھ بادل نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ ان کی پارٹی کسانوں کے مفادات کیلئے کچھ بھی قربان کرسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے زراعت سے وابستہ تین بلوں کی زبردست مخالفت کی اور مرکز سے کسانوں کی تشویش کو دور کرنے کی اپیل کی۔بادل نے کہا کہ شرومنی اکالی دل پارٹی مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ زراعت سے متعلق ان تینوں بلوں پر جب تک کسان تنظیموں ، کسانوں اور مزدوروں کے سبھی اعتراضات کو ختم نہیں کیا جاتا ہے ، اس وقت تک وہ انہیں پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش نہ کرے۔قابل ذکر ہے کہ ہرسمرت کور بادل مودی حکومت میں اکالی دل کی واحد نمائندہ ہیں۔ ہرسمرت کور کے استعفیٰ کے بعد کانگریس نے اسے ’’محض دِکھاوا‘‘ بتایا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ واقعی کسانوں کی ہمدرد ہیں تو مودی حکومت سے حمایت واپس کیوں نہیں لیتیں۔ کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ “اکالی دل کو علامتی دِکھاوے سے آگے بڑھ کر سچ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔