بی جے پی قائدین فکر مند، حکمت عملی میں تبدیلی پر غور
حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے دورہ دہلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد بی جے پی کی ریاستی قیادت کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حضورآباد ضمنی چناؤ کی تیاریوں میں مصروف بی جے پی قائدین کو کے سی آر کی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات نے کیڈر کے سامنے لاجواب کردیا ہے اور وہ ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کرنے کے موقف میں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ مرکزی قائدین کی کے سی آر سے خوشگوار ملاقات سے ٹی آر ایس کیڈر اور قائدین مطمئن ہیں کہ انہیں حضورآباد میں بی جے پی کی مخالفت میں از خود کمی واقع ہوگی اور عوام میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی اسکیمات سے مطمئن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی قائدین نے اجلاس طلب کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ دہلی میں قومی قائدین سے کے سی آر کی ملاقات کا ضمنی چناؤ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ریاست کو درپیش مختلف مسائل پر چیف منسٹر کی وزیر اعظم سے 50 منٹ اور امیت شاہ سے 45 منٹ تک بات چیت رہی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دونوں ملاقاتوں میں ریاست کی سیاسی صورتحال زیر بحث رہی۔ کے سی آر جو 2014 سے مرکزی حکومت کے فیصلوں کی غیر معلنہ حلیف کی حیثیت سے تائید کررہے ہیں وہ نریندر مودی اور امیت شاہ کو تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کے حملوں کو روکنے آمادہ کرچکے ہیں۔ اسی دوران بعض مرکزی وزراء نے ٹی آر ایس حکومت کی اسکیمات کی ستائش کی جن میں پلے پرگتی اور رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی جیسی اسکیمات شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر کے دورہ دہلی کے بعد سے بی جے پی قائدین کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے گی۔R