مودی کابینہ میں رد و بدل کا امکان، دوڑ میں 27 نئے نام شامل

   

نئی دہلی :جموں و کشمیر معاملہ پر کل جماعتی میٹنگ ختم ہونے اور اتر پردیش میں جاری رسہ کشی کچھ کم ہونے کے بعد اب مودی کابینہ میں رد و بدل کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہوگیاہے۔ سیاسی حلقوں میں خبر گشت کر رہی ہے کہ یو پی الیکشن سے قبل کابینہ میں بڑے پیمانے پر ممکنہ تبدیلی ہوگی اور 27 نئے چہروں کو موقع مل سکتا ہے۔ ان ناموں میں جیوترادتیہ سندھیا، سشیل مودی، کیلاش وجے ورگیہ، سربانند سونوال، نارائن رانے اور بھوپندر یادو کا نام زور و شور سے لیا جا رہا ہے۔مودی حکومت کی ممکنہ کابینہ توسیع میں جن نئے وزراء کی حلف برداری کا امکان ہے ان میں مدھیہ پردیش کے سابق کانگریس لیڈر جیوترادتیہ سندھیا کا نام سب سے اوپر ہے، جو کہ اب بی جے پی میں ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی، راجستھان کے بھوپندر یادو اور مدھیہ پردیش سے کیلاش وجے ورگیہ کا نام بھی ہے، جو مغربی بنگال میں بی جے پی کی مہم کے انچارج تھے۔ بی جے پی ترجمان اور اقلیتی چہرہ سید ظفر اسلام کو بھی مرکزی حکومت میں ذمہ داری دیئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ا?سام کے سابق وزیر اعلیٰ سربانند سونوال اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ نارائن رانے کے علاوہ مہاراشٹر کے بیڈ سے رکن پارلیمنٹ پریتم منڈے اور گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی پنکجا منڈے کا نام بھی رد و بدل والے امیدواروں کی فہرست میں ہے۔ اتر پردیش سے بی جے پی چیف سوتنتر دیو سنگھ، پنکج چودھری، ورون گاندھی اور این ڈی اے میں شامل انوپریا پٹیل بھی ممکنہ چہروں کی فہرست میں شامل ہیں۔