آپریشن کیلئے کوئی مخصوص ٹائم فریم نہیں ۔ ایران کی طرف سے لاحق بقاء کے خطرے کو ختم کرنا مقصد
نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے جمعہ کے روز ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ ہندوستان کو ایران پر حملوں کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے دورہ اسرائیل کے دوران ان حملوں کے بارے میں بریفنگ نہیں دی گئی تھی کیونکہ ان حملوں کو انجام دینے کا فیصلہ بعد میں کیا گیا تھا۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی مسٹر نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دو دن بعد شروع ہوئی تھی۔ اسرائیل کے دورے کے دوران مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی اور اسرائیلی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا۔ یہاں رائسینا ڈائیلاگ میں ورچوؤل طور پر حصہ لیتے ہوئے گیدون سار نے کہاکہ وزیر اعظم مودی اور ہندوستان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، اور ہم نے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے ۔ 2026 میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جامع ایجنڈا تیار کیا گیا ہے ۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم جمعرات کے روز وزیر اعظم مودی کو اس کے بارے میں مطلع نہیں کر سکے کیونکہ یہ کارروائی کرنے کا فیصلہ ہفتہ کے روز سویرے کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا ہے ۔ گیدون سار نے کہاکہ یہ فیصلہ جمعرات کے روز ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہوا ہے ، اس لیے اس دورے کے دوران انھیں مطلع کرنا ممکن نہیں تھا۔ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے علاقائی مضمرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ملیشیا حزب اللہ عوام اور ملک لبنان کی مرضی کے خلاف” جنگ میں داخل ہوئی ہے اور یہ فیصلہ تہران کے کہنے پر کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اب اسرائیل کے آبادی والے علاقوں بالخصوص شمالی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہی ہے ۔وہ بنیادی طور پر ہمارے ملک کے شمالی حصے میں، ہمارے آبادی والے مراکز پر میزائل اور ڈرون فائر کر رہے ہیں، اور یہ واضح ہے کہ یہ یکطرفہ طور پر جاری نہیں رہے گا۔ گیدون سار نے تہران پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران نے کئی دوسرے ممالک کو نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ “اس نے کم از کم 10 ممالک پر حملہ کیا ہے ۔ تمام خلیجی ممالک، قبرص، آذربائیجان، اور ترکی بھی۔ یہ عام رویہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ حکومت نارمل نہیں ہے ۔فوجی کارروائی کب تک جاری رہے گی اس کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی امریکہ نے اس آپریشن کے لیے کوئی مخصوص ٹائم فریم مقرر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ایران کی طرف سے لاحق طویل مدتی بقاء کے خطرے کو ختم کرنا ہے ۔