کارکنوں کا ایک دوسرے پر حملہ، جنگاؤں میں دونوں کے احتجاج سے کشیدگی
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کے تلنگانہ سے متعلق بیان کے خلاف ٹی آر ایس کے احتجاج کے دوران آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب جنگاؤں میں بی جے پی کارکنوں نے ریالی کو روک دیا۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی اور احتجاج کیا۔ صورتحال اس وقت بے قابو ہونے لگی جب دونوں پارٹیوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں سے حملہ کردیا اور دھکم پیل اور گڑبڑ میں ٹی آر ایس کے کئی اہم قائدین پھنس گئے۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے طاقت کا استعمال کیا اور دونوں پارٹیوں کے متصادم کارکنوں کو منتشر کیا۔ علاقہ میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس کے زائد دستے تعینات کردیئے گئے۔ ضلع میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ٹی آر ایس کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران ریاستی وزیر پنچایت راج دیاکر راؤ کی قیادت میں پالا کرتی اسمبلی حلقہ میں ٹی آر ایس کارکنوں نے سیاہ بیاچس کے ساتھ وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کیا۔ اسمبلی حلقہ کے تمام منڈلوں میں احتجاج منظم کیا گیا اور ریاستی وزیر نے بائیک ریالی میں شرکت کی۔اس موقع پر دیاکر راؤ نے کہا کہ بی جے پی دراصل تلنگانہ کو کمزور کرنے کی سازش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں نریندر مودی کا بیان افسوسناک ہے۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ اور کے سی آر کے خلاف بیان بازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے تلنگانہ کی جدوجہد میں شریک نوجوانوں کی توہین کی کوشش کی ہے۔ر