کرشنا واٹر کے کاموں میں بہتری پیدا کرنے کا فیصلہ ، محکمہ واٹر ورکس سے اضافی پمپس کی تنصیب
حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موسم گرما کے دوران امکانی پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے حیدرآباد میٹرو پولیٹین واٹر ورکس کی جانب سے کرشنا واٹر کے دوسرے اور تیسرے مرحلہ میں انجام دیئے گئے کاموں میں مزید بہتری لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس نے اضافی پمپس کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے۔ شہرحیدرآباد کو حمایت ساگر و عثمان ساگر سے کی جانے والی پینے کے پانی کی سربراہی کو روکتے ہوئے کرشنا اور سنگور سے حیدرآباد پہنچنے والا پانی سربراہ کیا جا رہاہے ۔ عہدیداروں کے بموجب شہر حیدرآباد کو موسم گرما کے دوران 14تا15ایم جی ڈی پانی درکار ہوگا اور اس پانی کے حصول کے لئے نئی پائپ لائن کی تنصیب کے ذریعہ 30ایم جی ڈی اضافی پانی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ریاستی حکومت نے شہر کے ذخائر آب کے خشک ہوجانے کے سبب اکم پلی سے 270تا272ایم جی ڈی پانی کے حصول کا فیصلہ کیا تھا اور اسی طرح یلم پلی پراجکٹ کے ذریعہ 168 ایم جی ڈی پانی حاصل کیا جارہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں درکار650ایم جی ڈی پانی کی ضرورت کو فی الحال 410ایم جی ڈی پانی سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ جو قلت ہے اسے دور کرنے کیلئے نئے پراجکٹس کی تکمیل کا انتظار کیا جارہاہے۔ماہرین کی جانب سے حیدرآباد میٹروپولیٹین واٹر ورکس کو حوالہ کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کرشنا کے دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے پائپ لائن کو بہتر بناتے ہوئے نئے اضافی واٹر پمپ نصب کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں حیدرآباد کو درکا ر اضافی پانی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ان تجاویز پر عمل آوری سے قبل اس کی مطالعاتی رپورٹ تیار کرنے کے سلسلہ میں حیدرآباد میٹرو پولیٹین واٹر ورکس نے کنسلٹنسی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پراجکٹ کی امکانی تفصیلات کے ساتھ نقصان و فوائد کے سلسلہ میں رپورٹ کو مکمل کیا جاسکے۔ اس رپورٹ کی تیاری کے بعد حیدرآباد میٹروپولیٹین واٹر ورکس کی جانب سے شہر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی سربراہی کو بہتر بنانے کیلئے امکانی منصوبہ حکومت کو روانہ کرتے ہوئے منظوری حاصل کی جائے گی اور اس منصوبہ کے منظوری کے بعد ہی پراجکٹ پر عمل آوری کے اقدامات کئے جائیں گے۔