اسلامی فن تعمیر اور ثقافتی ورثہ کی شمولیت، مسجد کا مجوزہ بلیو پرنٹ جاری، قطب شاہی و آصف جاہی دور کی تاریخ کو سمیٹنے کی کوشش
حیدرآباد۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے تحت پرانا پُل کے قریب ایک عظیم الشان مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے جو اسلامی طرز تعمیر اور شہر کی قدیم تہذیبی وراثت کا منفرد امتزاج ہوگی۔ حکومت نے موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقہ کو ترقی دینے کے ساتھ مسجد، مندر اور گرجا گھر کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت سے مسجد کا مجوزہ ڈیزائن جاری کیا گیا۔ مسجد کے ڈیزائن میں یوروپی ہم آہنگی، ترکی گنبدوں اور مدینہ منورہ کی روحانی دلکشی سے منصوبہ کو قطعیت دی گئی۔ حیدرآباد کی تاریخ کی جھلک بھی مسجد کی طرز تعمیر میں نمایاں رہیگی جس میں آصف جاہی عہد کی نفیس طرز تعمیر کو شامل کیا جائے گا تاکہ ماضی اور حال کے درمیان ربط قائم ہوسکے۔ مسجد کو صرف ایک عبادت گاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک فعال ثقافتی مرکز کے طور پر سرگرم رکھنے کا منصوبہ ہے۔ مذہبی اشیاء جیسے قرآن مجید، جائے نماز و دیگر اسلامی ضروریات کیلئے مخصوص مارکٹ قائم کی جائے گی۔ اردو ادب، خطاطی اور حیدرآباد کی لسانی روایت کے فروغ کیلئے بھی خصوصی مقامات فراہم ہونگے۔ کتب خانوں اور ثقافتی گوشوں میں نادر مخطوطات، اردو شاعری اور شہر کی مشترکہ تہذیبی تاریخ کو پیش کیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف روحانی سیاحت کو فروغ دیگا بلکہ حیدرآباد کی دیرینہ اردو ثقافت کے تحفظ اور فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ یہ مسجد روحانی مرکز کے علاقہ تاریخ اور سماجی روابط کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرے گی ۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی کے کنارے مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور توقع ہے کہ جلد مسجد اور گرجا گھر کے کاموں کا آغاز ہوگا۔ ماہرین کے مطابق مسجد کا یہ منصوبہ شہر میں مذہبی ثقافتی و سیاحتی سرگرمیوں میں نیا اضافہ ہوگا۔ حکومت نے مسجد کا بلیو پرنٹ جاری کیا جس میں طرز تعمیر اور گنبد کی تعمیر میں ترکی اور مدینہ منورہ کی روحانی خوبصورتی کو پیش نظر رکھا گیا ۔ عالی شان مسجد کے بلیو پرنٹ کا عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ 1