موسیٰ ندی کے اطراف تین نئے کارپوریشنس تشکیل دینے کی تجویز

   

حیدرآباد، سکندرآباد اور سائبر آباد کے ناموں پر غور، جنوری میں نوٹیفکیشن کی اجرائی متوقع
ہر ایک کارپوریشن کے حدود میں 100 ڈیویژنس، 20 سرکلس، 5 زونس کا منصوبہ، دارالحکومت کی نئی نقشہ بندی

حیدرآباد۔ 30 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد کو موسیٰ ندی کے اطراف تین میونسپل کارپوریشنس میں تقسیم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس سلسلے میں حتمی نوٹیفکیشن جنوری میں جاری کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اپریل اور مئی میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق موجودہ گریٹرر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو از سر نو تشکیل دے کر تین الگ الگ کارپوریشنس بنائی جائیں گی۔ گریٹر حیدرآباد کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں پرانا شہر اور سنٹرل حیدرآباد شامل رہے گا۔ گریٹر سکندرآباد میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں شمالی اور مشرقی حیدرآباد کے علاقے شامل رہیں گے۔ گریٹر سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں شمالی اور مغربی علاقوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق موسیٰ ندی شہر حیدرآباد میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ اس بنیاد پر اس کے دونوں اطراف کے علاقوں کو تین مجوزہ کارپوریشنس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر کارپوریشن کے حدود میں 100 وارڈس ہوں گے جبکہ انتظامی سہولت کے لئے 20 سرکلس اور 5 زونس تشکیل دیئے جائیں گے۔ ہر زون میں 4 سرکل کو شامل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت تینوں کارپوریشنس کے لئے الگ الگ میئر ہوں گے اور ہر کارپوریشن کی نگرانی کے لئے سکریٹری سطح کے آفسر کو کمشنر کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے اس تقسیم سے شہری انتظام، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ ریاستی حکومت جلد ہی اس منصوبے پر باضابطہ اعلان کرنے کے ساتھ عملی اقدامات کا آغاز کرے گی۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں بھی اس مسئلہ پر مباحث کا قوی امکان ہے جس کے بعد حیدرآباد کی بلدیاتی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ 2