مولانا سعد کاندھلوی پر نسل کشی کی کوشش کا مقدمہ دائر

   

نظام الدین مرکز میں تبلیغی اجتماع کیخلاف دہلی پولیس مسلسل سرگرم
نئی دہلی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) تبلیغی جماعت کے رہنما مولانا سعد کاندھلوی کو قابل مواخذہ نسل کشی پر ماخوذ کیا گیا ہے کیونکہ مذہبی اجتماع میں شریک بعض افراد کی کوروناوائرس کے سبب موت ہوگئی ہے۔ پولیس نے چہارشنبہ کو کہا کہ مولانا سعد نے نظام الدین مرکز میں گذشتہ ماہ مذہبی اجتماع کا اہتمام کیا تھا اور یہ مہلک مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مرکز کے عائد کردہ سماجی فاصلہ کے قاعدے کے مغائر ہوا۔ مولانا سعد کے خلاف ایف آئی آر 31 مارچ کو نظام الدین کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کی شکایت پر کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ انہیں قبل ازیں اجتماع کے انعقاد کے سلسلہ میں ماخوذ کیا گیا تھا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ تبلیغی اجتماع کے کئی شرکاء کوروناوائرس کا شکار ہوگئے چنانچہ ہم نے مولانا سعد کے خلاف ایف آئی آر میں آئی پی سی سیکشن 304 (قابل مواخذہ نسل کشی جو قتل نہ ہو) بعض بیرونی شہری جو اجتماع میں شریک ہوئے ان کے خلاف بھی ویزا قواعد کو توڑنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مولانا کاندھلوی نے قبل ازیں ایک آڈیو پیام میںکہا تھا کہ وہ ازخود قرنطینہ اختیار کررہے ہیں کیونکہ نظام الدین مرکز کے اجتماع میں شریک کئی سو افراد کوروناوائرس کی جانچ میں مثبت پائے گئے ہیں۔