مولانا فضل الرحمن کو ایک دن میں دو سیاسی جھٹکے

   

اسلام آباد ۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن جو اپوزیشن جماعتوں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر بھی ہیں،بادی النظر میں منگل کا دن ان کی چار دھائیوں پرمحیط سیاست پر بھاری رہا۔پہلا دھکہ انھیں اس وقت لگا جب مولانا شیرانی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کو جے یو آئی سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور دوسرا سیاسی دھکہ انھیں اس وقت پہنچا جب پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں شرکاء کی اکثریت نے اسمبلی سے استعفوں کی مخالفت کردی۔مولانا فضل الرحمن پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اس دوران انھوں نے ملکی سیاست میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ کئی سیاسی معرکے بھی انجام دیئے جن میں ان کا دورہ ہندوستان بھی شامل ہے۔جہاں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ان کی ملاقات اور ہندوستانی میڈیا سے ان کی گفتگو شامل ہے۔