نئی دہلی: جامعہ دارالسلام عمر آباد کے سابق سربراہ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا کاکا سعید عمری کے سانحہ ارتحال پر سخت رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور جامعہ ہدایہ جے پور کے امیرمولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ ان کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ کاکا سعید عمری جنوبی ہند کے ممتاز علماء، ملت اسلامیہ کے بہی خواہ اور دینی اور دنیاوی علوم کو فروغ دینے کے روشن مینار تھے ۔ انہوں نے جامعہ دارالسلام کو دینی اور عصری علوم کا مرکز بنایا تھا۔ مولانا عمری صاحبؒ بڑی خوبیوں کے مالک تھے اللہ نے ان سے بڑا کام لیا وہ اتحاد ملت کے بڑے علمبردار تھے ،بورڈ کی نشستوں میں دلچسپی کے ساتھ حاضر ہوتے اور اپنی رائے پیش کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ،طویل عرصہ سے بورڈ کے نائب صدر تھے ،خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے عادی تھے ،ملت کی اٹھان اور ترقی کیلئے ہرممکن بے لوث کوشش کرتے رہے ،ان کا خلا دیر تک محسوس کیا جائیگا۔ مولانا مجددی نے کہا کہ ان کے آباء و اجداد ملک کے بڑے تاجر تھے اور چرم کے کاروبار سے منسلک تھے اور ان کا کاروبار بیرون ملک تک پھیلا ہوا تھا۔
مولانا کاکا سعید عمری کے والد کا ویژن دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے ان کی فراست والی نظر تھی اور ان کے والد کا کا اسماعیل نے جامعہ کا نصاب بنانے کے لیے اس وقت مایہ ناز. سرکردہ اور صاحب بصیرت علمائے کرام مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا انور شاہ کشمیری،مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا سید سلیمان ندوی وغیر ہم سے مشورہ کیاتھا کیوں کہ وہ صرف ایک مدرسہ کا قیام عمل میں لانا نہیں چاہتے تھے اس لئے کہ اس وقت برصغیر میں ہزاروں مدارس و جامعات اور دار العلوم موجود تھے بلکہ ایک منفرد مدرسہ جس میں ہرمکتب فکر کے طلبا ء پڑھیں اور ہر کتب فکر کے اساتذہ پڑھائیں ان کا مقصد تھا جو پورا ہورہا ہے ۔