مولانامحمدعلی جوہرپر دستاویزی کتاب 10 دسمبر کو منظرعام پرآئے گی

,

   

نئی دہلی:جنگ آزادی کے عظیم مجاہد، بے مثال صحافی اورالبیلے شاعر مولانا محمد علی جوہر کی زندگی اور ان کے کارناموں سے متعلق ایک دستاویزی کتاب ان کے یوم پیدائش 10 دسمبر کو منظرعام پر آرہی ہے ۔ اس کتاب میں مولانا کے آخری دور کے ساتھی، جامعہ کے ابتدائی طالب علم محمد عبدالملک جامعی نے کچھ اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جس وقت مولانا انگریز سامراج سے لوہا لے رہے تھے ، وہ ان کی بڑی بے سروسامانی کا دور تھا۔ ان کا کوئی معاون اور مددگار نہیں تھا۔ صحت کا یہ عالم تھا کہ ڈاکٹر نے اسی زمانے میں کہا تھا کہ اگر آپ نے نوکر کو ذرا زور سے آواز دی تو ہوسکتا ہے کہ آنکھ کا پردہ پھٹ جائے ۔ وہ بہر حال اس پھوٹ جانے والی مخدوش آنکھ سے ہی سارے کام کررہے تھے ۔ ان میں ان کی تقریریں، تحریریں، مباحثے، مجادلات، جلسے ، کانفرنسیں، وائسرائے سے ملاقاتیں اور دوستوں سے شکایتیں سبھی شامل تھیں۔ دن دن بھر کاغذات سیاہ کرتے اور رات رات بھر بیٹھ کر اس کو ٹائپ کرتے ۔ اس سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ راتوں کو کاربن پیپر کی تلاش میں دوڑ بھاگ کیا کرتے تھے ۔ مصنف نے لکھا ہے کہ ایک رات وہ ہمارے کالج کے ہوسٹل ‘گلشن منزل’ میں کاربن کی تلاش میں آئے تھے ۔