مکدڈونالڈ کا مشرق وسطیٰ میں بائیکاٹ ، امریکہ میں بزنس بڑھ گیا

   

نیویارک: امریکہ میں مکڈونالڈ کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران آمدنی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے عوام کی طرف سے مکدڈونالڈ مصنوعات کے بائیکاٹ کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا کافی حد تک ازالہ ہو گیا ہے۔شکاگو کے برگر جیانٹ نامی برانڈ نے کہا کہ اس کے ایک ہی اسٹور کی فروخت یا کم از کم ایک سال کے دورانیے کے لیے کھلنے والے اسٹورز کی آمدنی میں ماہ جنوری سے ماہ مارچ کے دورانیے میں 1.9 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ البتہ آمدنی میں یہ اضافہ فیکٹ سیٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ وال اسٹریٹ کی 2.1 فیصد اضافے کی پیش قیاسی کی نسبت کم تھا۔جبکہ امریکہ میں اسی اسٹور کی آمدنی میں تقریبا 2.5 فیصد تک کا اضافہ ہوا جس کی وجہ کمپنی کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مانگ میں اضافہ بھی تھا تاہم مکڈونالڈ کی بین الاقوامی فرنچائزڈ مارکیٹوں کی آمدنی میں قدرے کمی آئی جس کی وجہ مشرق وسطیٰ اور مسلم اکثریتی ممالک مثلا انڈونیشیا اور ملائشیا اور ان کی مارکیٹوں میں صارفین نے گذشتہ کئی ماہ سے مکڈونالڈ اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔یہ بائیکاٹ عوام کی طرف سے مکڈونالڈ کی اسرائیلی حمایت کے باعث کیا جا رہا ہے۔ بائیکاٹ کا آغاز ماہ اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب مکڈونالڈ کی مقامی فرنچائز نے غزہ میں جاری جنگ میں حصہ لینے والے اسرائیلی فوجیوں کیلئے مفت کھانا فراہم کیا تھا۔مسلم ممالک کے عوام کی طرف سے کیے جانے والے بائیکاٹ کی وجہ سے ہونے والے مالی نقصان کو مکڈونالڈز نے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمپنی نے اپریل کے شروع میں کہا تھا کہ وہ ایلونل لمیٹڈ کو خرید رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی اسرائیلی فرنچائز، اور ملک کے 225 ریستورانوں کو سنبھال رہی ہے۔