10 ماہ سے ایک امام تنخواہ سے محروم، تنخواہوں میں اضافہ کی فائیل برسوں سے زیر التواء
حیدرآباد۔ شہر کی تاریخی مکہ مسجد کی تعمیر و مرمت کا کام جس طرح ادھورا ہوچکا ہے اُسی طرح وہاں کے خطیب، ائمہ، مؤذنین اور ملازمین زبوں حالی کا شکار ہیں۔ حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت نے مسجد میں کورونا قواعد کے پیش نظر باقاعدہ نمازوں کی اجازت نہیں دی تھی لیکن خطیب، ائمہ، مؤذنین اور ملازمین اپنے فرائض کی تکمیل کرتے رہے لیکن گذشتہ کئی برسوں سے ان کی تنخواہوں پر نظرثانی نہیں کی گئی۔ موجودہ حالات میں جبکہ ہر شخص معاشی مسائل کا شکار ہے حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلہ سے مکہ مسجد کے ملازمین کو کسی فائدہ کا امکان نہیں ہے۔ مکہ مسجد کے خطیب، امام کی تنخواہیں مسجد میں سیکورٹی کا کام کرنے والے ہوم گارڈز سے بھی کم ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی مسجد کے اُمور سے عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک امام گذشتہ 10 ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں لیکن عہدیداروں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 سال قبل تنخواہوں میں معمولی اضافہ کیا گیا تھا اور موجودہ تنخواہیں نہ صرف ہوم گارڈ بلکہ جی ایچ ایم سی کے صفائی کرمچاریوں سے بھی کم ہیں۔ خطیب، 2 امام اور 2 مؤذنین کی تنخواہ 17,500 روپئے ماہانہ ہے جبکہ ملازمین کی تنخواہ 12 ہزار روپئے ہے۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی جملہ تعداد 30 ہے جن میں سے 6 کا تعلق شاہی مسجد باغ عامہ سے ہے۔ کم تنخواہوں کے نتیجہ میں ملازمین کو ضروریات کی تکمیل اور افراد خاندان کی کفالت میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ کے آؤٹ سورسنگ صفائی عملے کی تنخواہ 30 تا 40 ہزار ہے جبکہ مکہ مسجد میں سیکورٹی خدمات انجام دینے والے ہوم گارڈز کی تنخواہ تقریباً 25 ہزار روپئے ہے اس کے علاوہ انہیں سالانہ ایک ہزار روپئے کا اضافہ کیا جاتا ہے اور یونیفارم کیلئے سالانہ 7500 روپئے دیئے جاتے ہیں۔ حکومت مکہ مسجد کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن خطیب، امام اور مؤذنین جیسے باوقار عہدوں پر فائز شخصیتوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز حکومت کے پاس زیر التواء ہے اور محکمہ فینانس کی عدم منظوری کا بہانہ کیا جارہا ہے۔ تنخواہوں کو کم از کم دوگنا کرنے کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی۔ حافظ لطیف احمد کی میعاد میں توسیع کا معاملہ مارچ سے زیر التواء ہے جس کے نتیجہ میں انہیں دس ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی خدمات میں توسیع کے احکامات جاری کئے گئے۔ دوسری طرف عصر، مغرب اور عشاء کے امام کو کورونا لاک ڈاؤن سے آج تک خدمات کے بغیر تنخواہ کی اجرائی ہورہی ہے حالانکہ وہ کورونا کے خوف سے گھر تک محدود ہیں۔ ملازمین کی تعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے کیونکہ مسجد کی صفائی اور دیگر اُمور کی انجام دہی کیلئے 24 گھنٹے اسٹاف کی موجودگی ضروری ہے۔ حال ہی میں دو ملازمین کا انتقال ہوا اُن کی جگہ تقرر نہیں کیا گیا۔ مسجد کی نگرانی کیلئے 42 لاکھ کے خرچ سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے اور کنٹرول روم قائم کیا گیا۔ مسجد میں 43 کیمرے نصب ہیں لیکن ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں جس کے باعث سی سی ٹی وی کیمروں کا وجود بے معنی ہوچکا ہے۔ مکہ مسجد کے منیجر نے 3 سال قبل رضاکارانہ سبکدوشی کی درخواست دی تھی جو آج تک منظور نہیں ہوئی ہے۔ مقامی افراد اور مصلیان مسجد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خطیب، امام، مؤذنین اور ملازمین کی تنخواہوں میں فوری اضافہ کرے۔
