دہلی کی تہاڑ جیل میں منصوبہ تیار کیا گیا ، انٹلی جنس ایجنسیوں کا دعویٰ
ممبئی : مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے باہر بم کار کیس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے ۔ انٹلی جنس ایجنسیوں نے کہا کہ ایس یو وی کار میں جلیٹن چھڑیاں بھر کر پارک کی گئی کار کیلئے جیش الھند نے ذمہ داری قبول کی ہے اور اس نے یہ منصوبہ دہلی کے تہاڑ جیل میں ٹیلی گرام چینل کے ذریعہ تیار کیا تھا ۔ تاہم جیش الھند نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ وضاحت کی کہ اس کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جیش الھند کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے ۔ انٹلی جنس ایجنسیوں نے ٹیلی گرام چینلس @ جیش الھند کو استعمال کرنے والے آئی پی ایڈریس کا پتہ چلایا ہے ۔ تہاڑ جیل سے یہ نیٹ ورک شروع کیا گیا تھا ۔ اس کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے سیم کارڈ کا استعمال کیا گیا ۔ ایک مرتبہ سیم کارڈ کا پتہ چل جائے تو انٹلی جنس ایجنسیوں کو دہلی میں تہاڑ جیل کے اطراف کام کررہے ڈیوائس پن تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی ملے گی ۔ ذرائع نے کہا کہ تہاڑ جیل کے تین تا چار قیدیوں پر کڑی نظر رکھی گئی ہے ۔ پولیس نے ان قیدیوں کو نگرانی میں لیا ہے ۔ مختلف زاویوں اور ذرائع سے کی جارہی تحقیقات اور تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک گروپ خفیہ طور پر کام کررہا ہے ۔ فون نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انٹلی جنس ایجنسیوں نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ تہاڑ جیل میں ہی ملزم نے اپنے منصوبہ کو بروئے کار لانے کیلئے ٹیلی گرام چینل نام سے ویب سائیٹ تیار کی تھی ۔ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دھماکہ کیا جانے والا تھا ۔