زعفرانی اتحاد کو حکومت سازی کے موقع کی فراہمی ، ونچت کے تمام 235 امیدواروں کو شکست کا سامنا
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) پرکاش امبیڈکر کی سیاسی جماعت ونچت بہوجن اگھاڑی نے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں 25نشستوں پر شیو سینا ۔بی جے پی اتحاد کو کامیابی کی راہ ہموار کی جس کے نتیجہ میں زعفرانی اتحاد کو معمولی اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کا موقع مل چکا ہے ۔ ونچت بہوجن اگھاڑی نے مہاراشٹرا میں 235 امیدوار میدان میں اتارے لیکن ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل نہیں کی لیکن کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کو 25نشستوں پر نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔معروف انگریزی و ہندی نیوز ویب سائٹ ’’دی کوئنٹ‘‘ کی جانب سے تیار کی گئی مکمل روپورٹ اور جائزہ میں جن باتوں کا انکشاف کیا گیا ہے ان کے مطابق یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ پرکاش امبیڈکرجو کہ ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر ہیں نے گذشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران مجلس سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کیا تھا اور مہاراشٹرا میں اس مرتبہ مجلس اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے قائدین کے مطابق نشستوں کی تقسیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب اتحاد نہیں ہوسکتا تھا۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار اگر میدان میں نہ ہوتے تو مہاراشٹرا کے انتخابی نتائج کچھ اور ہوتے ۔ فی الحال زعفرانی اتحاد کو مہاراشٹرا میں 161 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کو 102نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اگر پرکاش امبیڈکر کے امیدوار نہ ہوتے تو نتائج کچھ یوں ہوتے کہ زعفرانی اتحاد کے 161میں 25نشستیں کم کئے جانے کے بعد وہ 136 پر ہوتے اور کانگریس ۔این سی پی اتحاد 102 کے 127 نشستوں پر کامیاب ہوتا اس طرح دیگر 25 منتخبہ ارکان اسمبلی کی مدد حاصل کرتے ہوئے کانگریس ۔ این سی پی اتحاد زعفرانی اتحاد کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیاب ہوتا لیکن ونچت بہوجن اگھاڑی نے اس مرتبہ ’’ووٹ کٹوا‘‘ کا کام کیا ہے ۔ جن نشستوں پر کانگریس امیدوار دوسرے نمبر پر تھے اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدواروں کے ووٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کو کامیابی کی راہ ہموار کرنے والی تعداد میں ووٹ حاصل کئے ہیں ان میں 16 نشستیں ہیں ۔ جن 16 نشستوں پر کانگریس دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدواروں کے سبب ناکام رہی ان میں آکولہ (ویسٹ) ‘ ارنی‘بلار پور‘ چکنی ‘ چیمور‘ دھمم گاؤں ریلوے ‘ کھام گاؤں ‘ ناگپور ساؤتھ‘پونے کنٹونمنٹ‘ رالے گاؤں‘ شیواجی نگر‘تلجاپور‘ یوتمال ‘ چنڈیویلی ‘چیمبور ناندیڑ نارتھ شامل ہیں۔ان 16 نشستوں میں 3پر شیو سینا اور 13 نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ 9 نشستیں ایسی ہیں جہاں این سی پی امیدوار دوسرے نمبر پر رہے اور بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد نے کامیابی حاصل کی اور ان کی کامیابی بھی اتنے ہی ووٹوں سے ہوئی جتنے ووٹ ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدواروں نے حاصل کئے ۔ ان 9 نشستوں میں چالیس گاؤں‘ داؤنڈ‘ گیورائی‘جنتور‘ کھڈک وسالہ ‘ ملشیراس ‘ الہاس نگر‘عثمان آباد اور پیٹھان شامل ہیں۔ بی جے پی نے ان 9نشستوں میں 7 پر کامیابی حاصل کی جبکہ 2نشستوں پر شیو سینا کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔مہاراشٹرا انتخابات کی یہ خصوصیت ہے کہ ونچت بہوجن اگھاڑی نے ہی ان انتخابات میں سب سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی ‘ شیوسینا‘ این سی پی اور کانگریس نے بھی اتنے امیدوارمیدان میں نہیںاتارے تھے اور ونچت بہوجن اگھاڑی نے پہلی مرتبہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس کے 235میں 9 امیدوار دوسرے نمبر پر رہے جبکہ ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوپایا ہے۔