مہاراشٹرا میں 500 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری فراڈ میں تین ملزمان گرفتار

   

ممبئی۔ 31 جنوری (ایجنسیز) مہاراشٹرا میں ایک بڑے سرمایہ کاری فراڈ کا پردہ فاش ہوا ہے، جہاں اقتصادی جرائم وِنگ نے میاں بیوی اور ان کے ایک ساتھی کو گرفتار کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاست بھر میں 11 ہزار سے زائد سرمایہ کاروں سے تقریباً 500 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں سمیر نرویکر، ان کی اہلیہ نیہا نرویکر اور ان کا ساتھی امیت پلاو شامل ہیں۔ تینوں کو جمعرات کے روز گجرات سے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے سنہ 2019 میں پونے میں ‘‘ٹریڈ ود جاز’’ کے نام سے ایک سرمایہ کاری کمپنی قائم کی تھی۔ اس کمپنی کے ذریعے شیئر مارکیٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری پر ماہانہ چار فیصد منافع کا لالچ دیا جاتا تھا، جبکہ اعتماد حاصل کرنے کے لیے تقریباً دس فیصد ماہانہ آمدنی ظاہر کی جاتی تھی۔ اس اسکیم کے جال میں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے 11 ہزار سے زائد افراد پھنس گئے، جن میں تقریباً 1500 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصے بعد کمپنی نے اچانک اپنے دفاتر بند کر دیے اور سرمایہ کاروں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا، جس کے بعد شکایات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر تقریباً 500 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کئی سرکاری افسران اور بیوروکریٹس، جن میں کچھ ریٹائرڈ اہلکار بھی شامل ہیں، اس اسکیم میں سرمایہ کاری کر چکے تھے۔ ملزمان کے خلاف مہاراشٹر پروٹیکشن آف انٹرسٹ آف ڈیپازٹرز ایکٹ 1999 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، اس کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023 کی دفعات کے تحت مجرمانہ سازش اور امانت میں خیانت کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔