100 انسپکٹران کا تبادلہ نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر نے سرزنش کی ۔ رپورٹ طلب کی
ممبئی : چیف الیکشن کمشنر راجیوکمار نے مہاراشٹرا حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اہم عہدیداروں کے اسمبلی انتخابات سے قبل عدم تبادلہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ممبئی میں آج ایک جائزہ اجلاس کے دوران راجیو کمار نے سوال کیا کہ 100 پولیس انسپکٹران اب بھی شہر میں کیوں اہم عہدوں پر فائز ہیں جبکہ الیکشن نے 31 جولائی کو ہی احکام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو عہدیدار کسی ایک عہدہ پر تین سال سے زیادہ یا اپنے آبائی اضلاع میں برسر کار ہیں ان کا تبادلہ کردیا جائے ۔ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے بھی مقررہ تاریخ تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ۔ کمیشن سے یاد دہانی کے مکتوب بھی تین مرتبہ روانہ کرکے جلد جواب دینے کو کہا گیا تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔ کمیشن نے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ہدایت دی کہ وہ ان حالات کی وضاحت کریں جن کی وجہ سے ابھی تک تعمیل احکام کی رپورٹ داخل نہیں کی گئی ۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریاست کے اکسائز کمشنر کی بھی سرزنش کی اور سخت ہدایات دیں کہ وہ پڑوسی ریاستوں سے غیرقانونی شراب کی منتقلی کو روکیں تاکہ ریاست میں انتخابی عمل کو آزادانہ اور منصفانہ رکھا جاسکے ۔ انہوں نے غیرقانونی شراب کی منتقلی اور تقسیم کو انتخابات سے قبل روکنے کیلئے سخت ترین اقدامات پر زور دیا ۔ انہوں نے گاڑیوں خاص طور پر پولیس ویانس اور ایمبولنس کے بیجا استعمال اور ان میں غیرقانونی رقومات کی منتقلی کو روکنے پر بھی زور دیا ۔ کمیشن نے بینکوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ شام کے بعد رقومات کی منتقلی کو روک دیں اور منشیات کنٹرول بیورو کو ہدایت دی کہ وہ بین ریاستی منشیات کی منتقلی پر قابو پانے اقدامات کرے ۔ الیکشن کمیشن کا ایک وفد چیف الیکشن کمشنر کی قیادت میں مہاراشٹرا کا دورہ کر رہا ہے ۔