مرہٹواڑہ کے مسلم آبادی والے اضلاع میں وائرس کا پھیلاو جاری
حیدرآباد۔ مہاراشٹرا میں لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات آنے لگے ہیں اور کورونا مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے لیکن مرہٹواڑہ کے مسلم اضلاع اور دیہی علاقوں میں اب بھی کورونا مریضوں کی تعداد اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہاراشٹرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے سبب شہری علاقوں اور اضلاع کے حالات میں بہتری پیدا ہوئی ہے لیکن مرہٹواڑہ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ سے انتظامیہ تشویش کا شکار ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو ماہ میں ریاستی حکومت سے دیہی علاقوں پر توجہ دینے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کے عہدیدارو ںنے حکومت کو روانہ تجاویز میں کہا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن کے فائدے سامنے آرہے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں وائرس پھیلنے سے جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس سے نمٹنے وسیع تر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق مرہٹواڑہ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور اموات کا جائزہ لینے کے ساتھ طبی انفراسٹرکچر کی تیاری کی ہدایات مل رہی ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ اگر ان حالات سے بہتر ور پر نمٹنے اقدامات کو تیز نہ کیا جائے تو مہاراشٹرا کو کورونا وائرس پر قابو پانے کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔احمد نگر‘ پربھنی اور بلڈانہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں معائنوں اور پازیٹیو کیسوں کا تجزیہ کیا جائے تو مریضوں کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہونے لگی ہے جو ۔ عہدیداروں کے مطابق ان علاقو ںمیں عوام کی جانب سے لاک ڈاؤن پرعمل نہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ملک کی ان ریاستوں میں جہاں کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا ان کے بڑے شہروں میں مریضوں کی تعداد میں کمی آنے لگی ہے لیکن دیہی علاقوں میں مریضوں کے اضافہ سے حکومت تشویش میں مبتلاء ہونے لگی ہے۔