مہاراشٹرا میں مخالف سی اے اے مظاہروں کے تمام مقدمات منسوخ کرنے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کا تیقن

   

Ferty9 Clinic

ممبئی:مہاراشٹر کی اُدھو حکومت نے تیقن دیا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں سے وابستہ جو بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں، وہ سبھی واپس لیے جائیں گے۔ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے کیونکہ مقدمات واپس لیے جانے سے کئی بے قصور مسلمانوں اور غیر مسلم سماجی کارکنان کو راحت ملے گی۔ اس سلسلے میں ’ہم بھارت کے لوگ‘ تنظیم نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے سبھی سی اے اے مخالف احتجاجوں سے جڑے کیسز واپس لیے جانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔پریس ریلیز کے مطابق ’ہم بھارت کے لوگ‘ کا ایک وفد وزیر داخلہ انل دیشمکھ سے ملا تھا اور انھیں ان مقدمات کے بارے میں روشناس کرایا جو کہ پرامن طریقے سے چلنے والے سی اے اے مخالف مظاہروں سے وابستہ ہیں۔ وفد نے انل دیشمکھ کو 31 معزز شہریوں کی توثیق پر مبنی ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں سبھی ایف آئی آر کی تفصیل موجود ہے اور بتایا گیا ہے کہ لوگوں پر غلط طریقے سے مختلف پولس تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انل دیشمکھ سے ملاقات کرنے والے وفد نے مقدمات کی جو تفصیلات پیش کی ہیں، وہ صرف ممبئی کے پولس تھانوں میں درج کیسز پر مبنی ہیں۔ انل دیشمکھ نے اس وفد کو یقین دلایا کہ ان سبھی کیسز کو جلد از جلد واپس لیے جانے کی کارروائی ہوگی۔ وفد کے مطابق وزیر موصوف نے میمورنڈم پر ریمارکس دیتے ہوئے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔