ممبئی فساد پر سری کرشنا کمیشن کے روبرو صنعت کار نے بال ٹھاکرے کیخلاف بے باکانہ گواہی دی تھی
ممبئی: معروف بزرگ صنعت کار رتن ٹاٹا کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ انہوں نے نے 1992-93 کے ممبئی فسادات کی تحقیقات کرنے والے جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن کے سامنے گواہی دی تھی ،سری کرشناکمیشن پر کتاب لکھنے والے معروف صحافی جاوید جمال الدین اُس وقت بمبئی ہائی کورٹ کے کمرہ نمبر 1میں موجود تھے ،جب رتن ٹاٹا نے بڑی بے باکی سے کہاکہ مہاراشٹر کے ایک عظیم جنگجو( شیواجی مہاراج) کو ماننے والوں نے اپنے رہنما کی قیادت میں عروس البلاد ممبئی کوتہس نہس کردیا۔جاوید کے مطابق رتن ٹاٹا کو وزیراعلی سدھاکر راؤ نائیک کے ایک متنازعہ بیان کے بعد ایک وکیل کی درخواست پر کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی جسٹس بی این سری کرشنا نے ہدایت دی ۔جاوید جمال الدین نے مزید کہاکہ مشہور صنعت کار ٹاٹا بمبئی ہائی کورٹ کے کمرہ نمبر 1 میں داخل ہوئے تو کورٹ روم میں سنّاٹا چھاگیا کیونکہ ان کی شخصیت متاثر کن تھی خوبرو،درازقداور سرخ مائل رخسار بھی لوگوں پر اثر انداز ہوتے تھے ۔وہ دوپہر کے سیشن میں کمیشن کے روبرو پیش ہوئے تھے ،اُن کے نام پکارے جانے پر ہدایت کے مطابق کٹہرے میں کھڑے ہوگئے ،جرح کے دوران کچھ دیر بعدجج جسٹس بی این سری کرشنا نے انہیں کٹہرے میں کرسی کی پیشکش کی ،کیونکہ ان کے گھٹنے میں تکلیف تھی لیکن رتن ٹاٹا نے شائستگی سے انکار کردیا اور شام 5،بجے تک گواہی دی اور جسٹس سری کرشنا کابھی ان کے ساتھ شائستانہ رویہ رہا۔دراصل رتن ٹاٹا کو کمیشن میں اس لیے طلب کیاگیاکہ شہر کی معزز شخصیات نے فساد کے دوران وزیراعلی سدھاکر راؤ سے ملاقات کی تو انہوں نے مبینہ طورپر کہاکہ “آپ شیوسینا کے سپریمو بال ٹھاکرے سے رجوع کیجئے ۔” اس بیان کے لیک ہونے پر تنازعہ کھڑاہوگیا۔ریاست کے سابق چیف سکریٹری جے بی ڈی سوزا، جو سماجی کاموں میں سرگرم رہے ۔نے لکھا تھاکہ سدھاکر راؤ نائک نے الیق پدمسی اور رتن ٹاٹا دونوں سے کہا تھا کہ وہ شہر کو تباہ کرنے والے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھاکرے کے دروازے پردستک دیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیسوزا کو کمیشن کے سامنے مناسب طور پر طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے گواہی دی کہ انہیں پدمسیماور ٹاٹا سے نائیک کی غیر معمولی درخواست کے بارے میں معلوم ہواتھا۔فرقہ وارانہ فسادات کے انکوائری کمیشن نے اس سلسلہ میں مہاراشٹر کے وزیراعلی سدھاکر راؤ نائک کی جانچ پڑتال کے تحت ایڈوائزراور تھیٹر سے وابستہ الیق پدمسی سے کمیشن کے روبرو ایک سخت جرح کی تھی۔