مہاراشٹرا کے سیاسی بحران سے نمٹنے مرکز اپنے منصوبوں سے دستبردار

   

سونا رکھنے کی حد کا تعین کرنے کی تجویز پر عوام میں برہمی سے حکومت خائف
حیدرآباد۔یکم۔نومبر(سیاست نیوز) حکومت ہند مہاراشٹر میں پیدا شدہ سیاسی بحران سے نمٹنے کی کوشش میں اپنے منصوبوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سونے کی خریدی اور سونا رکھنے کی حد کے تعین کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات اور حکمت عملی کی تیاری کے انکشاف کے ساتھ ہی حکومت کے مختلف گوشوں کی جانب سے اس بات کی تردید کی جانے لگی ہے کہ حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ وہ عوامی سرمایہ کو حاصل کرنے کیلئے سونا رکھنے کی حد کا تعین کرے۔ مہاراشٹر ا میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دوران حکومت کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا جا رہاہے کہ حکومت عوام کو مزید کسی مخمصہ میں مبتلاء کئے بغیر اپنے کام جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران واضح اکثریت حاصل نہ کرپانے اور مہاراشٹرا میں موجود شیو سینا کی جانب سے حکومت ساز ی کے لئے شرائط کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے کئی منصوبوں کو فی الحال کے لئے فوری ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ مہاراشٹرا میں جوصورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے لازمی ہے کہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جائے جبکہ سونا رکھنے کی حد کا تعین کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عوام میں شدید برہمی پیدا ہوسکتی ہے

اور عوامی برہمی کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قریب آنے کی کوشش کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہونے لگ جائیں گی اسی لئے مہاراشٹرا میں حکومت سازی پر توجہ دینے کے مقصد کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی نے قومی سطح پر سونے کی خریدی یا رکھنے کی حد کے تعین کے سلسلہ میں کی جانے والی منصوبہ بندی سے فوری طور پر دستبرداری اختیار کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی جبکہ گذشتہ دو یوم کے دوران تمام ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے سونے کے متعلق نئی پالیسی تیار کی جا چکی ہے اور اس پالیسی پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے محکمہ فینانس اور کامرس کے عہدیداروں کے علاوہ محکمہ مال اور انکم ٹیکس کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں ایک سفارشی مکتوب بھی تیار کیا جاچکا ہے جس کی بنیاد پر حکومت کی جانب سے سونا رکھنے کی حد کے تعین کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کئے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی لیکن مہاراشٹرا کے حالات نے حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے باز رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے سبب حکومت نے فوری اس منصوبہ کی تردید کا اعلان کردیا ۔