مہنگائی 22 مہینے کے سب سے نچلے سطح پر

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی، 14 جون (سیاست ڈاٹ کام)کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی شرح سات فیصد کے قریب رہنے کے باوجود ایندھن اوربجلی اور تیار اشیاء کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں نسبتا کم اضافے سے مئی مہینے میں تھوک قیمتوں پر مبنی افراط زر کی شرح گھٹ کر 2.45 فیصد رہ گئی جو 22 مہینے کے سب سے نچلے سطح پر ہے ۔ وزارت تجارت وصنعت کے ذریعہ جمعہ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2019 میں تھوک مہنگائی کی شرح 3.07 فیصد اور مئی 2018 میں 4.78 فیصد رہتی تھی۔ تھوک مہنگائی کا اس سے نچلی سطح 1.88 فیصد رہا تھا جو جولائی 2017 میں درج کیا گیا تھا۔ مئی میں کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی شرح 6.99 فیصد رہی۔ ان میں سبزیاں مئی 2018 کے مقابلے 33.15 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ آلو 23.66 فیصد سستا ہوگیا۔ پھلوں کی قیمتیں بھی 3.51 فیصد کم ہوئیں۔ دال کی مہنگائی شرح 18.36 فیصد اور پیاز کی 15.85 فیصد رہی۔ چینی کی قیمتوں میں 11.61 فیصد اضافہ ہوا۔ ایندھن اوربجلی کے شعبوں میں مہنگائی شرح 0.94 فیصد رہی۔ ڈیژل کے دام 1.28 فیصد بڑھے جبکہ پٹرول کی قیمت 1.02 فیصدکم ہوئی۔ رسوئی گیس کی مہنگائی شرح 13.26 فیصد رہی۔