(اقلیتی اداروں سے حکومت کا کھلواڑ)
اقلیتی اداروں کی بے قاعدگیوں پر نظر رکھنے پر اختلاف، انتہائی مصروف اجئے مشرا کو ذمہ داری، اقلیتی اداروں پر مستقل عہدیدار نہیں
حیدرآباد۔25۔ ستمبر (سیاست نیوز) سکریٹری اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سے بی مہیش دت یکا آئی اے ایس کی اچانک سبکدوشی اور اجئے مشرا آئی اے ایس کو زائد ذمہ داری دیئے جانے کا فیصلہ محکمہ اقلیتی بہبود میں موضوع بحث بن چکا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور اداروں میں مختلف بے قاعدگیوں کے سدباب کے لئے مہیش دت یکا نے خصوصی دلچسپی لی اور یہ بات کئی عہدیداروں کو گراں گزر رہی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں مہیش دت یکا نے کسی دباؤ کے بغیر مختلف اداروں کی سرگرمیوں پر رپورٹ طلب کی تھی۔ اقلیتی اداروں سے وابستہ سیاسی قائدین کیلئے بھی مہیش دت یکا ان کی پسند اور تائید میں فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن چکے تھے۔ گزشتہ دنوں اسمبلی میں اقلیتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق اپوزیشن اور برسر اقتدار ارکان کی شکایات کے بعد مہیش دت یکا نے ہر ادارہ کی اسکیمات پر شخصی نگرانی کا فیصلہ کیا تھا ۔ ایسے میں اچانک انہیں اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا اور اجئے مشرا آئی اے ایس کو یہ ذمہ داری دی گئی جو پہلے ہی سے وہ اہم محکمہ جات کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ محکمہ میں کسی بھی عہدیدار کی خدمات طویل عرصہ تک برقرار نہ رکھنے کی صورت میں محکمہ کی خامیاں جوں کی توں برقرار ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مہیش دت یکا نے کئی اداروں کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے اصلاحات کے سلسلہ میں حکومت کو سفارش کی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے انداز کارکردگی سے حکومت کے مشیر کو بھی اختلاف تھا اور چیف منسٹر کے دفتر کو اعتماد میں لیتے ہوئے مہیش دت یکا کو اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔ اجئے مشرا آئی اے ایس پہلے ہی محکمہ برقی جیسے اہم شعبہ کے اسپیشل چیف سکریٹری کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایس سی ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کی زائد ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ یہ دونوں محکمہ جات سے نمٹتے ہوئے اقلیتی بہبود کے لئے وقت دینا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود انہیں یہ ذمہ داری دیدی گئی۔ مہیش دت یکا جو قبائلی بہبود کے سکریٹری ہیں، یہ چھوٹا ڈپارٹمنٹ ہے اور اقلیتی بہبود کے ساتھ وہ انصاف کرنے کے موقف میں تھے لیکن پس پردہ سیاست نے ان کے تبادلہ کیلئے چیف منسٹر کے دفتر کو راضی کرلیا اور 23 ستمبر کی رات احکامات کی اجرائی عمل میں آئی اور جی او کو انتہائی راز میں رکھا گیا۔ اجئے مشرا نے آج اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی بدقسمتی کہا جائے گا کہ حکومت نے کبھی بھی مستقل عہدیداروں کے تقرر میں دلچسپی نہیں لی۔ گزشتہ دنوں سید عمر جلیل کو کمشنر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی حیثیت سے مامور کیا گیا۔ وہ اقلیتی بہبود میں طویل عرصہ تک گراں قدر خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی کارکردگی سے بعض اعلیٰ عہدیداروں اختلاف کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کیلئے ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا ۔ اقلیتی بہبود میں حج کمیٹی ، اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن پر زائد ذمہ داری نبھانے والے عہدیدار موجود ہیں۔ کرسچین فینانس کارپوریشن کی مینجنگ ڈائرکٹر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ذمہ داری دی گئی جبکہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی کے انچارج کی حیثیت سے برقرار ہیں۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کو حج کمیٹی کے اگزیکیٹیو آفیسر کی ذمہ داری دی گئی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اقلیتی بہبود سے کوئی دلچسپی نہیں جس کے نتیجہ میں سکریٹری سے لے کر اداروں کے سربراہوں تک تمام اضافی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ایسے میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری اور بجٹ کے خرچ کی کس طرح امید کی جاسکتی ہے۔