مذہبی جذبات بھڑکاکر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام – جی ایچ ایم سی الیکشن میں اکثریت سے کامیابی کا دعویٰ، مقننہ اجلاس سے خطاب
حیدرآباد: چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تمام سروے ٹی آر ایس کے حق میں ہیں۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس 110 بلدی ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرے گی۔ بی جے پی کا زوال حیدرآباد سے شروع ہوگا۔ حیدرآباد کے سیلاب متاثرین کیلئے مرکزی حکومت نے ایک روپئے کی مدد نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے می سیوا مراکز سے متاثرین میں 10 ہزار روپئے کی امداد دی جارہی تھی جس کو بی جے پی نے رکوادیا ہے۔ تلنگانہ بھون میں منعقدہ ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ جی ایچ ایم سی پر ٹی آر ایس کا قبضہ برقرار رہے گا جتنی بھی سروے رپورٹس آئی ہیں وہ سب کی سب ٹی آر ایس کے حق میں ہیں۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران عوام کو بتائیں کہ مرکزی حکومت نے حیدرآباد کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک روپئے کی مدد نہیں کی لیکن بی جے پی قائدین مدد کرنے کی جھوٹی تشہیر کررہے ہیں اس کا پارٹی قائدین منہ توڑ جواب دیں۔ کورونا بحران سے ہم پریشان تھے ہمارے جی ایس ٹی بقایا جات بھی نہیں دیئے پھر بھی تلنگانہ حکومت می سیوا مراکز سے متاثرین کی مدد کررہی تھی اس میں بھی بی جے پی نے رکاوٹیں پیدا کردی۔ وہ بی جے پی کے خلاف حیدرآباد سے جنگ کا آغاز کررہے ہیں۔ ڈسمبر کے دوسرے ہفتہ میں ملک کی اہم علاقائی جماعتوں کے قائدین کا حیدرآباد میں اجلاس منعقد کریں گے جس میں ممتا بنرجی، بادل، شردپوار، اسٹالن، کمارا سوامی، اکھلیش یادو، مایاوتی کے علاوہ دوسری جماعتوں کے قائدین شرکت کرتے ہوئے مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں ، ایل آئی سی ، ریلویز، ایر انڈیا، سنگارینی، بی ایچ ای ایل، ڈی آر ڈی اے ، الکٹریسٹی ، آر ٹی سی کے علاوہ دوسرے شعبوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کے خلاف مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں گے۔ اب وہ قومی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ تمام جماعتوں کے قائدین سے وہ رابطہ میں ہیں۔ عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے والی بی جے پی حکومت انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان ، کشمیر، پلوامہ کی تشہیر کرتے ہوئے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کررہی ہے اور سیاسی فائدہ کیلئے عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے ملک اورعوام کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ سرحدی پر جنگ کرنے جیسی جھوٹی تشہیر کررہی ہے۔ بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ دیا جارہا ہے مگر کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنی دوراندیشی سے ملک میں کئی سرکاری شعبوں کا قیام عمل میں لایا جن سے عوام کو کافی فائدہ ہوا۔ لیکن بی جے پی ان شعبوں کو غیر کارکرد کرتے ہوئے سرمایہ کاری سے دستبرداری اختیار کررہی ہے اور خانگی شعبوں کے حوالے کررہی ہے۔ واجپائی دور حکومت سے اس سازش کا آغاز ہوا اور اس سلسلہ میں ایک خصوصی وزارت قائم کی گئی۔ اس کے بعد منموہن سنگھ کی زیر قیادت کانگریس حکومت نے بھی اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ مگر موجودہ مودی حکومت نے 23 سرکاری اداروں میں سرمایہ کاری سے دستبرداری اختیار کی اور انہیں خانگی کارپوریٹ اداروں کے حوالے کیا۔ مودی کے دور حکومت میں ایک بھی سرکاری ادارہ کا قیام عمل میں نہیں آیا۔