مجلس کی تائید کے بغیر میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ہوگا، بی جے پی کو فرقہ وارانہ ایجنڈہ سے دور رکھنے کی تیاری
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے ذریعہ بھلے ہی بہتر مظاہرہ کیا ہو لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن میں بی جے پی کو دھول چٹانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کیلئے کے سی آر نے توجہ مرکوز کرلی ہے اور میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن میں مجلس کی تائید کے بغیر دونوں عہدوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا ۔ بی جے پی کا یہ الزام ہے کہ ٹی آر ایس نے مجلس کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لیا اور میئر کے عہدہ پر مجلس کی تائید سے اپنے امیدوار کو منتخب کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ ٹی آر ایس پر فرقہ پرست طاقتوں سے مفاہمت کے الزامات کی نفی کرنے کیلئے کے سی آر نے سیاسی امور کے ماہرین سے مشاورت کے ذریعہ ایسا ماسٹر پلان تیار کیا ہے کہ جس سے بی جے پی خود اپنے جال میں پھنس سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے اپنی حلیف مجلس کے صدر اسد اویسی کو اس ماسٹر پلان پر عمل آوری کیلئے راضی کرلیا ہے جس کے تحت ٹی آر ایس اور مجلس دونوں میئر اور ڈپٹی میئر عہدوں کیلئے اپنے امیدوار کھڑا کریں گے۔ میونسپل کارپوریشن میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ 150 رکنی کارپوریشن میں سادہ اکثریت کیلئے 76 ارکان کی ضرورت ہے۔ ٹی آر ایس کو 56 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور وہ واحد بڑی جماعت کا موقف رکھتی ہے۔ بی جے پی 48 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی ہے جبکہ مجلس کو 44 اور کانگریس کو محض 2 نشستیں حاصل ہوئی۔ کوئی بھی پارٹی اپنے بااعتبار عہدہ ارکان کے ساتھ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر قبضہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی و کونسل کو رائے دہی کا حق حاصل ہے۔ بی جے پی کا اندازہ ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ پر کامیابی کیلئے ٹی آر ایس اور مجلس مفاہمت کریں گے، جسے عوام میں شدت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ہندو رائے دہندوں کو ڈسمبر 2023 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی جانب موڑنے کی کوشش کی جائے گی ۔ بی جے پی کے اس منصوبہ کو ناکام بنانے کیلئے کے سی آر نے جو ماسٹر پلان تیار کیا ، اس کے مطابق ٹی آر ایس اور مجلس دونوں کسی مفاہمت کے بغیر اپنے امیدوار کھڑے کریں گے جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو بھی اپنے امیدوار کھڑا کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑے گا ۔ ہر پارٹی کے کارپوریٹرس اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے ، ایسے میں ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی یقینی ہوگی۔ 56 کارپوریٹرس کے علاوہ ٹی آر ایس کے بااعتبار عہدہ ارکان کی تعداد 31 ہے جس کے ذریعہ وہ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر کامیابی بآسانی حاصل کرسکتی ہے۔ اگر بی جے پی مقابلہ نہ کرے تب بھی ایسی صورتحال پیدا کی جائے گی کہ بی جے پی رائے دہی سے غیر حاضر رہتے ہوئے بائیکاٹ کرے کیونکہ وہ ٹی آر ایس اور مجلس کو ووٹ نہیں دے سکتی۔ اگر بی جے پی رائے دہی سے غیر حاضر رہتی ہے تو ٹی آر ایس کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ بی جے پی نے مجلس کے خلاف ووٹ دینے کے بجائے فرار اختیار کی جس کا صاف مطلب ہے کہ بی جے پی اور مجلس میں خفیہ دوستی ہے۔ چیف منسٹر کے ماسٹر پلان سے بی جے پی کا فرقہ وارانہ ایجنڈہ خود اس کے لئے وبال جان بن جائے گا اور ٹی آر ایس کو بی جے پی پر جوابی وار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ موجودہ کارپوریشن کی میعاد 10 فروری کو ختم ہوگی۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ پر کامیابی کیلئے جو پہلا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ، اس کے تحت مجلس کے بعض کارپوریٹرس اور ارکان مقننہ کو شخصی وجوہات کی بنیاد پر رائے دہی سے غیر حاضر کرنے کی تجویز تھی تاکہ کورم کے لئے درکار حاضری کی تعداد میں کمی ہوجائے اور ٹی آر ایس دونوں عہدوں پر کامیابی حاصل کرلے۔ دوسرے منصوبہ کے تحت مجلس کو رائے دہی کے بائیکاٹ کے لئے راضی کیا جائے گا جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس کے امیدوار بآسانی کامیاب ہوجائیں گے۔ چیف منسٹر اور ان کے قریبی ساتھیوں نے محسوس کیا کہ مذکورہ دونوں منصوبوں کی صورت میں بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ ٹی آر ایس اور مجلس کی مفاہمت ہے۔