ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ
یانگون :میانمار کی فوج آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے ٹرینوں کو وقت پر چلانے کے قابل بھی نہیں ہوسکی ہے کیونکہ سرکاری ریلوے کے ورکرز فوجی بغاوت کے ابتدائی منظم مخالفین میں شامل تھے اور وہ ہڑتال پر چلے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق فوجی حکمرانی کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کی ابتدا کرنے والے ہیلتھ ورکرز نے سرکاری طبی سہولیات کی فراہمی بند کردی ہے جبکہ سرکاری اور نجی بینکوں کے ملازمین سمیت بہت سے سرکاری ملازمین کام پر نہیں آرہے ہیں۔یونیورسٹیاں مزاحمت کی آماجگاہ بن گئی ہیں اور حالیہ ہفتوں میں اساتذہ، طلبہ اور والدین نے سرکاری اسکولوں کا بائیکاٹ کیا ہے جس سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کا نظام تباہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ان کے اقتدار سنبھالنے کے 100 روز بعد میانمار کے حکمران جرنیل محض کنٹرول کا دکھاوا کر رہے ہیں۔یہ دعوے بنیادی طور پر آزاد میڈیا کو بند کرنے اور طاقت کے استعمال سے سڑکوں کو بڑے مظاہروں سے پاک رکھنے کی جزوی طور پر کامیاب کوششوں کے ذریعے برقرار ہیں۔آزاد اعداد و شمار کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک 750 سے زائد مظاہرین اور راہگیر ہلاک کیے جاچکے ہیں۔