حیدرآباد :۔ میاں پور میں جھیلوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عہدیداروں نے نظر انداز کردیا ہے ۔ خوبصورت منظر کی دو جھیلیں میڈی کنٹہ جھیل ( 15 ایکڑ ) اور انومولا جھیل ( 12 ایکڑ ) جن میں کبھی صاف پانی ہوا کرتا تھا اب یہ ان میں سیوریج کے بہہ کر آنے کی وجہ آلودہ ہوگئی ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان جھیلوں کے بڑے حصہ پر غیر قانونی قبضے کیے گئے ہیں ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ متعلقہ عہدیدار اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرتے ہوئے ان جھیلوں کی رونق بحال کریں ۔ انومولا کنٹہ جھیل میں اب پوری طرح پانی پر خودرو پودے بڑھ گئے ہیں جب کہ دونوں جھیلیں ناکارہ چیزوں سے بھر گئی ہیں ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ محکمہ مال اور آبپاشی کے عہدیداروں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان جھیلوں کو بہتر بنانے اور انہیں ترقی دینے کی فکر نہیں ہے ۔ مقامی افراد نے مزید کہا کہ ان جھیلوں میں کچہرا ڈالنا اور موریوں کا پانی بہہ کر ان جھیلوں میں آنا ایک تشویش ناک مسئلہ ہے ۔ ان میں پانی مشکل سے نظر آتا ہے اور یہ ہرے کھیتوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں کیوں کہ ایک طویل عرصہ سے ان کی صفائی نہیں کی گئی ہے ۔ میاں پور کے ساکن ، سماجی کارکن ونئے ونگلا نے کہا کہ ’ میڈی کنٹہ جھیل کا آبگیر علاقہ کچہرے اور ملبہ سے بھر گیا ہے ۔ یہاں غیر قانونی قبضے بہت ہورہے ہیں ۔ متعدد مرتبہ اس مسئلہ کو اٹھایا گیا اور متعلقہ عہدیداروں سے نمائندگی کی گئی لیکن انہوں نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار صرف چند جھیلوں ہی کو اہمیت دے رہے ہیں اور باقی جھیلوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ متعدد مرتبہ ہم نے ان سے ان جھیلوں کی صفائی کروانے کے لیے کہا لیکن انہوں نے جھوٹے وعدے کیے جھیل میں سیوریج کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کوئی مستقل حل نکالنے کے اقدامات نہیں کئے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جی ایچ ایم سی کے لیے اب ضروری ہے کہ کوئی منصوبہ بنایا جائے ‘ ۔ میاں پور کے ایک اور ساکن ٹی اومیش نے کہا کہ ’ ان دو جھیلوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ کیوں کہ سیوریج کا پانی ان میں جمع ہورہا ہے اگر اسٹارم واٹر ڈرین تعمیر کیا گیا تو بہتر ہوگا جس سے یہاں کے مقامی لوگوں کو بڑی راحت ہوگی ۔ اس مسئلہ کی وجہ مچھروں کی بھی کثرت ہورہی ہے ۔ میڈی کنٹہ جھیل کا سائز سکڑ گیا ہے اور ہر روز یہاں ناجائز قبضوں کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کئی اپیلیں اور متعلقہ عہدیداروں کو روانہ کی گئی درخواستوں کے باوجود جھیلوں کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔۔