میر عالم منڈی سے اجناس و سبزی خریداروں پر پولیس کا ظلم

   

انسپکٹر ، سب انسپکٹر کی بربریت سے عوامی برہمی ، حکومت کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی
حیدرآباد۔2اپریل (سیا ست نیوز) منڈی میر عالم کے علاقہ میں جہاں سے لوگ ترکاریاں اور اجناس خریدتے ہیں اس علاقہ میں محکمہ پولیس کی جانب سے راہگیروں کو پولیس کی جانب سے مارپیٹ اور ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اور یہ کہا جار ہاہے کہ وہ غیر ضروری باہر نکل رہے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں لوگ لاک ڈاؤن کی پابندی نہیں کر رہے ہیں لیکن ان لوگوں کو سمجھانے کے بجائے ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ محکمہ پولیس کے عہدیدار اس طرح سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روک رہے ہیں۔ دن کے اوقات میں حکومت کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی خریداری کیلئے وقت فراہم کیا گیا ہے اور شہریوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر کے تین کیلو میٹر کے حدود میں نکلتے ہوئے ترکاری‘ اشیائے ضروریہ‘ دودھ ‘ گوشت اور اجناس و غیرہ کی خریدی کر سکتے ہیں لیکن شائد حکومت کے ان احکامات سے پولیس کو واقف نہیں کروایا گیا ہے اسی لئے جابجا پولیس کی جانب سے شہریوں کو مارنے اور پیٹنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔میر عالم منڈی کے قریب محکمہ پولیس کے جوان سب انسپکٹر اور انسپکٹر کی نگرانی میں راہگیروں پر لاٹھیاں برسا رہے ہیںجس سے عوامی برہمی میں اضافہ کا سبب بننے لگے ہیں۔ محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی شکایات ہیں کہ پرانے شہر میں نوجوان پولیس کو گمراہ کرنے کے لئے قدیم ڈاکٹرس کی تجویز کردہ چٹھیوں کا سہارا لے رہے ہیں اور معمولی ترکاری خرید کر شہر بھر میں گھوم رہے ہیں۔ شہریوں کا دعوی ہے کہ جب شہریوں کے پاس ذرائع آمدنی ہی نہیں ہیں اور وہ اپنی آمدنی کیلئے پریشان ہیں تو وہ کہاں سے پٹرول ضائع کرنے کے لئے سڑکوں پر گھومیں گے۔ شہریوں کا کہناہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ہی گھروں سے نکل رہے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے اختیار کیا جانے والا طریقہ کار ظالمانہ ہوتا جا رہاہے۔ منڈی میر عالم کے روبروآج دوپہر جو کہ حکومت کی جانب سے خریداری کا وقت مقرر تھا اس دوران نوجوانوں کو بے رحمی کے ساتھ پیٹا گیا اور راہگیروں پر لاٹھیاں برسائی جاتی رہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور پولیس کسی سے دریافت کئے بغیر اس بات کا فیصلہ کررہی ہے کہ یہ لوگ غیر ضروری گھروں سے نکلنے کے مرتکب ہیں اسی لئے ان کے ساتھ سختی کی جا رہی ہے اور سختی کی انہیں کھلی چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔