سرینگر: میر واعظ کشمیر مولانا محمد عمر فاروق کی نظر بندی کے خلاف جمعہ کو تاریخی جامع مسجد کے باہر خواتین نے پر امن احتجاج کیا اور میر واعظ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔انجمن اوقاف جامع مسجد کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق آج پورے 200 جمعتہ المبارک مکمل ہو رہے ہیں جب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو نہ تو یہ اہم دینی فریضہ اور نہ ہی اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔بیان کے مطابق حکام کے اس طرزعمل کیخلاف مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کیلئے شہر و گام سے آئے عوام جن میں خاص طور پر نوجوان اور خواتین بھی شامل تھیں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس لیکراس پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے حکمرانوں کے رویہ کی شدید مذمت کی اور میرواعظ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پرانجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے نائب صدر اور بزرگ خطیب و امام،مولانا احمد سعید نقشبندی نے 5 اگست2019 سے مسلسل جناب میرواعظ کی طویل ترین نظر بندی کو لیکر سخت فکر و تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرواعظ پر پابندیوں کے سبب مرکزی جامع مسجد سرینگر کا صدہاسالہ منبرو محراب قال اللہ وقال الرسول ﷺ اور دعوت و تبلیغ کی اشاعت سے خاموش ہے بلکہ اس کے انتہائی منفی اثرات پورے کشمیری معاشرہ پر پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انجمن اوقاف کی جانب سے لگاتار اپیلوں خاص طور پر متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر جو ریاست کی تمام مقتدر دینی، تعلیمی،سماجی اور اصلاحی انجمنوں کا مشترکہ وسیع تر پلیٹ فارم ہے ، کی جانب سے ماہ رمضان میں لیفٹننٹ گورنر کے نام مکتوب ارسال کرنے کے باوجود گورنر موصوف کی جانب سے منفی اور نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کرنا نہ صرف حد درجہ افسوسناک بلکہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
امام حی نے کہا کہ حکومت امرناتھ یاترا کے بارے بیحد حساس اور سنجیدہ ہے جبکہ میرواعظین صدیوں سے یاتریوں کے تحفظ اور سلامتی کے سلسلے میں نہ صرف دعا گو رہے ہیں بلکہ عوام کو ان کی مہمان نوازی اور دیکھ ریکھ کی تلقین کرتے آئے ہیں اور آج اسی میرواعظ کو اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا جارہا ہے جو ایک المیہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرواعظ کی نظر بندی سے جہاں کشمیری عوام کے مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہو رہے ہیں وہاں یہ عمل بشری حقوق اور مسلمہ جمہوری قدروں کے بھی منافی ہے جسکی مہذب دنیا میں کوئی مثال نہیں مل سکتی۔موصوف نے توقع ظاہر کی کہ اب جبکہ عید الاضحی کی اہم ترین تقریب آرہی ہے حکام اپنے طرزعمل کو تبدیل کرکے میرواعظ کی غیر مشروط اور فوری رہائی یقینی بنائیں گے تاکہ موصوف عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھاسکیں۔