اتراکھنڈ میںمسلم تاجر کو ہراسانی سے بچالیا، ویڈیو وائرل، بجرنگ دل کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج
حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) ملک میں فرقہ وارانہ اور نفرت کے بڑھتے ہوئے ماحول کے درمیان اتراکھنڈ میں ایک ہندو نوجوان نے فرقہ پرستوں کو چیالنج کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم کی ہے۔ اتراکھنڈ کے کوڈوار علاقہ میں ایک مسلم تاجر پر نفرتی عناصر کی جانب سے حملے کے وقت دیپک نامی ایک نوجوان نے فرقہ پرستوں کو کھلے عام چیالنج کرتے ہوئے ملک کے سیکولر اور انصاف پسند عوام میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ دیپک کمار جو کوڈوارر علاقہ میں ایک جم کا مالک ہے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ویڈیو میں مسلم تاجر کی کھل کر تائید کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلم دکاندار کو ہراسانی سے بچا لیا۔ دیپک نے کہا کہ میں ہندو، مسلمان، سکھ اور نہ عیسائی ہوں بلکہ سب سے پہلے ایک انسان ہوں، مرنے کے بعد مجھے خدا کو جواب دینا ہے، میں کسی مذہب کو جوابدہ نہیں ہوں بلکہ انسانیت کو جواب دینا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے 26 جنوری کے دن 70 سالہ مسلم تاجر وکیل احمد کو دھمکی دی کہ وہ اپنی دکان کے نام سے لفظ بابا کو حذف کردیں گے۔ بابا اسکول ڈریس کے نام سے موجود اس دکان کے نام پر اس لئے اعتراض تھا کہ بابا عام طور پر مذہبی افراد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ یہ لفظ ہندو مذہبی شخصیتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس موقع پر موجود دیپک نامی نوجوان نے بجرنگ دل کارکنوں کے رویہ پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دکان 30 سال قدیم ہے اور اب نام کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہجوم نے جب دیپک سے اس کی شناخت جاننے کی کوشش کی تو اس نے جواب دیا کہ میرا نام ’’محمد دیپک‘‘ ہے۔ دیپک کی مزاحمت کے بعد فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے پست ہوگئے لیکن دیپک کی قیام گاہ کے روبرو احتجاج منظم کیا گیا۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے تصادم کو ٹال دیا۔ دیپک نے کہا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔ دیپک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا نام محمد دیپک کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک میں ہندو اور مسلمان برابر ہیں۔ اس جملہ کا مقصد ہندو شناخت کو مسلمانوںسے جوڑ کر ہندوستان کی ہم آہنگی کو ظاہر کرنا تھا۔ سوشیل میڈیا پر ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی ایک طرف دیپک کی ستائش کی جارہی ہے تو نفرتی عناصر نے ان کے خلاف مہم چھیڑدی ہے۔ دیپک نے کہا کہ ملک میں نفرت کی نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارہ کی ضرورت ہے۔ دیپک دراصل 26 جنوری کے دن جس وقت یہ واقعہ پیش آیا مسلم تاجر وکیل احمد کی دکان پر موجود تھا۔ دیپک کمار کو سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر گالی گلوج اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مسلم تاجر کی شکایت پر پولیس نے دھمکی اور حملے سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ تاجر نے شکایت کی کہ بجرنگ دل سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے نوجوانوں نے دکان کا نام تبدیل نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ 1