میٹرو ریل پہلے مرحلہ پر حکومت کے کنٹرول کیلئے سرگرم مساعی جاری

   

حیدرآباد میں میٹرو ریل کے دو توسیعی مراحل میں حکومت سننجیدہ، مرکزسے تعاو ن طلب
حیدرآباد ۔30 ۔ مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے حیدرآباد میٹرو ریل فیس I کو کنٹرول میں لینے کے لئے صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے۔ میٹرو پراجکٹ کے دیگر مراحل کی تکمیل کیلئے مرکزی حکومت نے پہلے مرحلہ کو مکمل طور پر تحویل میں لینے کی شرط رکھی تھی ۔ حیدرآباد میٹرو ریل اور حکومت کے عہدیداروں کے درمیان فیس I کی منتقلی کے سلسلہ میں سرگرم مشاورت جاری ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پراجکٹ پر مکمل کنٹرول کیلئے مزید کچھ وقت درکار ہے۔ اسی دوران حکومت نے 69 کیلو میٹر پر محیط میٹرو ریل فیس I کی تحویل کیلئے ایوان میں قرار داد منظور کی ہے۔ ایل این ٹی کمپنی اور حکومت کے درمیان پراجکٹ کے اثاثہ جات اور قرض کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔ حکومت فیس II کے تحت دو علحدہ توسیعی منصوبوں پر عمل آوری کی تیاری کر رہی ہے۔ فیس IIA کے تحت 76.4 کیلو میٹر اور فیس IIB کے تحت 86.1 کیلو میٹر توسیعی منصوبہ ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے شہری علاقوں میں ٹریفک سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے حکومت نے میٹرو کے توسیعی منصوبہ پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ فیس I کا کام 2010 میں ایل این ٹی کے حوالے کیا گیا تھا اور 35 سال کی مدت کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معاہدہ کیا گیا تھا ۔ حکومت نے فیس IIA کے تحت 5 راہداریوں کا تعین کیا ہے جو ناگول تا شمس آباد ایرپورٹ 36.8 کیلو میٹر ، رائے درگ تا کوکا پیٹ 11.6 کیلو میٹر اور مہاتما گاندھی گس اسٹیشن تا چندرائن گٹہ 7.5 کیلو میٹر شامل ہیں۔ میاپ تا پٹن چیرو 13.14 کیلو میٹر اور ایل بی نگر تا حیات نگر 7.1 کیلو میٹر کا توسیعی منصوبہ ہے۔ دوسرے مرحلہ کے کاموں پر 24269 کروڑ کے مصارف کا امکان ہے۔ فیس IIB کے تحت جملہ 86.1 کیلو میٹر کا احاطہ کیا جائے گا اور جن راہداریوں کی نشاندہی کی گئی ان میں ایرپورٹ تا بھارت فیوچر سٹی 39.6 کیلو میٹر ، جوبلی بس اسٹیشن تا میڑچل 24.5 کیلو میٹر او رجوبلی اسٹیشن تا شاہ میر پیٹ 22 کیلو میٹر شامل ہیں۔ تینوں راہداریوں کی تکمیل پر 19579 کروڑ کے مصارف آئد ہوںگے۔ حکومت نے نومبر 2024 میں مرکزی وزارت شہری ترقی کو جملہ 162.5 کیلو میٹر کا بلیو پرنٹ روانہ کیا تاکہ مرکز اور ریاست میں جوائنٹ وینچر کو منظوری حاصل ہو۔ مرکزی حکومت نے ایل اینڈ ٹی کمپنی کو فیس II میں مساوی حصہ دار کے طور پر شامل ہونے کا مشورہ دیا لیکن ایل اینڈ ٹی تیار نہیں ہے۔ کمپنی نے پہلے مرحلہ سے دستبرداری کے لئے تجویز پیش کی کہ حکومت 13,000 کروڑ کا قرض اختیار کرلے۔ تلنگانہ حکومت نے فروری میں کابینی اجلاس میں پہلے مرحلہ کو حاصل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔1