ڈی پی آر منظوری کیلئے مرکز کو روانہ، مرکزی حکومت کی 4,230 کروڑ روپئے حصہ داری
ریاستی حکومت کی ذمہ داری 7313 کروڑ، 48 فیصد قرض حاصل کرنے کی تجویز، 4 سال میں پراجکٹ مکمل ہوگا
حیدرآباد 28 اکٹوبر (سیاست نیوز) حکومت نے میٹرو ریل دوسرے مرحلہ پراجکٹ کو ریاستی و مرکزی حکومتوں کی شراکت کے علاوہ جزوی طور پر پی پی پی سسٹم کے ساتھ مکمل کرنا چاہتی ہے۔ 76.4 کیلو میٹر پانچ راہداریوں پر مشتمل ہوگا جس کی تخمینی لاگت 24,269 کروڑ روپئے ہوگی جس کی (ڈی پی آر) رپورٹ کو کابینہ کے اجلاس میں منظوری بھی دی گئی ہے۔ ڈی پی آر کو مرکزی حکومت کی جانب سے منظوری حاصل ہوتے ہی 4 سال میں کاموں کو مکمل کرنے کا نشانہ مختص کیا گیا ہے۔ میٹرو ریل کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے پر 8 لاکھ عوام کو سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔ ڈی پی آر اور دیگر دستاویزات کو منظوری کے لئے مرکزی حکومت کو روانہ کردیا گیا ہے۔ میٹرو کے دوسرے مرحلے 116.4 کیلو میٹر اور 6 راہداریوں کا احاطہ کیا جارہا ہے جس میں 76.4 کیلو میٹر کے 5 راہداریوں کے ڈی پی آر کا کام مکمل ہوگیا ہے جس کو ہفتہ کو سکریٹریٹ میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں منظوری دے دی گئی ہے۔ ماباقی ایک کاریڈار شمس آباد ایرپورٹ سے فورتھ سٹی تک 40 کیلو میٹر پر مشتمل ہے جس کی فیلڈ اسٹڈی جاری ہے۔ ریاستی حکومت کے پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کی تخمینہ لاگت کا 30 فیصد مکمل اخراجات میں 7313 کروڑ روپئے کے اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرے گی تقریباً 18 فیصد 4230 کروڑ روپئے کے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرے گی۔ 48 فیصد 11,693 کروڑ روپئے مرکزی حکومت کی گیارنٹی سے اے ڈی پی ۔ این ڈی پی کمپنیوں سے حاصل کرے گی۔ 4 فیصد اخراجات 1033 کروڑ پی پی پی سسٹم کے تحت حاصل کیا جائے گا۔ میٹرو ریل کے پہلے مرحلہ کے ساتھ ہمارا شہر حیدرآباد دہلی کے بعد ملک میں دوسرا شہر بن گیا ہے۔ گزشتہ 7 تا 8 سال کے دوران میٹرو ریل کی توسیع نہیں کی گئی۔ سابق حکومت کی عدم دلچسپی حیدرآباد 9 ویں مقام پر پہونچ گیا ہے۔ 2